Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
دو سیاح
سفید رات کو دن کی دھڑک سمجھتے ہیں
ایک تھے دو شیر
نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے
سمے کی کوکھ سے حیرت کا رنگ اترتا ہے
تمہارا کہنا ہے
نہیں میرا آنچل میلا ہے
نک نیم
میں جاگوں ساری رین سجن تم سو جاؤ
موت کبھی بھی مل سکتی ہے
مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں
محفل سے اٹھ جانے والو تم لوگوں پر کیا الزام
یہ تاروں بھری رات
وہ صبح ہم ہی سے آئے گی
کرتا ہوں اللہ اللہ
لمبا قصّہ
سمے کا بندھن
پتہ پتہ بوٹا بوٹا
درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے
ہاتھ چھوٹیں بھی تو
دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی
عشق کینہ ور کی آگ
خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے
قرطبہ کا قاضی
حامد کا بچہ
میں سادہ دل ہوں کہ رکھتا ہوں ایک ہی چہرہ
مجید کا ماضی
جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی
بہروپیا
چپ
روغنی پتلے
لائیسنس
خالی بوتلیں خالی ڈبے
ٹُوٹُو
دو قومیں
خالد میاں
ننگی آوازیں
بسم اللہ
رام کھلاون
شانتی
برف کا پانی
بے نشان
رتی، ماشہ، تولہ
شلجم
برف باری سے پہلے
غیب سے کوئی اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
عشق پاگل کر گیا تو کیا کرو گے سوچ لو
ایک تصویر
فقیروں کی پہاڑی
فوٹو گرافر
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
خواہش ہے آئینے پہ تجھے آئینہ کروں
اکثر اس طرح بھی رقصِ فغاں ہوتا ہے
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
شکر ہے راہ ترقی میں اگر بڑھتے ہو
کسی کا حکم ہے
آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے
تم نہ جان پاؤ گے
تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا
جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادو
میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات
پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
ابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی
ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں
ایک مہرے کا سفر
جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے
سوال کیا ہے؟
خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
میڈم ٹپ ٹپ، شیخ رشید اور شادی کی فرمائش
<<
1
...
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
...
140
>>