Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا
درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے
عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا
اک رستہ اک غم
پرواز کے بعد
آہ ! اے دوست
سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا
لیکن گومتی بہتی رہی
ایں دفتر بے معنی
اودھ کی شام
رقصِ شرر
ایکسپورٹ امپورٹ
یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
مرد ہو، عشق سے جہاد کرو
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
حضورﷺ ایسا کوئی انتظام ہو جائے
تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی
میں بچ کے پھر سے نکل آیا
بھٹو کی وراثت اور بلاول
بنا ہے کون، الٰہی، یہ کارواں سالار؟
میں نے لاکھوں کے بول سہے
آب گزیدے
پہلا پتھر
موذی
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
جو مثلِ دوست، عدو کو بھی سرفراز کرے
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر
پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوں
زخم اپنے گلاب کر دینا
جب مرا ہر ایک دکھ میرا ہنر ہو جائے گا
درد اکسیر کے سوا کیا ہے
عدم ذات
رب رحمان
کردار
بدلتے پہلو
عشق میں کانہا کے رادھا یوں ہی دیوانی نہ تھی
عادتاً تم نے کر دیے وعدے
دن کچھ ایسے گذارتا ہے کوئی
کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
حواس کا جہان ساتھ لے گیا
ہر ایک غم نچوڑ کے
ایسا خاموش تو منظر
تجھ کو دیکھا ہے
کھلی کتاب کے صفحے
خوشبو جیسے لوگ ملے
اوس پڑی تھی رات
ذکر ہوتا ہے جہاں بھی
وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا
بے سبب مسکرا رہا ہے چاند
مجھے اندھیرے میں بیشک
گلوں کو سننا ذرا تم
ایک پرواز دکھائی دی ہے
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا
ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے
جب بھی یہ دِل اُداس ہوتا ہے
کہیں تو گرد اُڑے
شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
ذکر جہلم کا ہے
تنکا تنکا کانٹے توڑے
رُکے رُکے سے قدم
اس کی باتوں سے میں نے پرکھا تھا
حرفِ مقدر
مونا لیزا
خمار ایک وہم ہے , خمار کی طلب نہیں
کیکٹس لینڈ
پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم
جب سے کتاب زیست کا رنگ جمال ہیں
سانجھ
<<
1
...
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
...
140
>>