اردو غزلیاتاصغر گونڈویشعر و شاعری

عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا

ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی

عشق ہی سعی مری، عشق ہی حاصل میرا
یہی منزل ہے، یہی جادۂ منزل میرا

یوں اڑائے لئے جاتا ہے مجھے دل میرا
ساتھ دیتا نہیں اب جادۂ منزل میرا

اور آ جائے نہ زندانئ وحشت کوئی
ہے جنوں خیز بہت شورِ سلاسل میرا

میں سراپا ہوں تمنّا، ہمہ تن درد ہوں میں
ہر بُنِ مو میں تڑپتا ہے مرے دل میرا

داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں، لیکن
اس میں کچھ خونِ تمنّا بھی ہے شامل میرا

بے نیازی کو تری کچھ بھی پذیرانہ ہوا
شُکرِ اخلاص مرا، شکوۂ باطل میرا
٭٭٭

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button