- Advertisement -

درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے

منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل

درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے
زندگی روزِ ازل سے موت کی جاگیر ہے

شہرِ دل میں سر اٹھاتی خواہشوں کے درمیاں
ہر قدم پر سامنے انسان کے تقدیر ہے

دن ہیں مایوں کےخزائیں لائی ہیں ابٹن ابھی
فصلِ گل کی رُونمائی میں ذرا تاخیر ہے

رقص کرتی ہے سرِ محفل یہ زلفیں کھول کر
عاشقی جیسے طوائف کی کوئی تقصیر ہے

انتشارِ زندگی میں ایک لمحے کا سکوں
جاگتی آنکھوں سے دیکھے خواب کی تعبیر ہے

کر لیا تسخیر جس کو عشق نے وہ آدمی
اس جہاں کے واسطے ناقابلِ تسخیر ہے

آگہی کا لطف دیتا ہے سدا انسان کو
ہجر کے اندر اگرچہ موت کی تاثیر ہے

منزّہ سیّد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Asghar Gondvi