- Advertisement -

ہزار طعنے سنے گا،خجِل نہیں ہو گا

عابِد ملک کی ایک اردو غزل

ہزار طعنے سنے گا،خجِل نہیں ہو گا
یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعِل نہیں ہو گا

اندھیرا پوجنے والوں نے فیصلہ دیا ہے
چراغ اب کِسی شب میں مخِل نہیں ہو گا

زمیں پر آنے سے پہلے ہی عِلم تھا مجھکو
مِرا قیام یہاں مستقِل نہیں ہو گا

تجھے معاف تو کر دوں گا ساری باتوں پر
مگر یہ زخم کبھی مندمِل نہیں ہو گا

عابِد ملِک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عابِد ملک کی ایک اردو غزل