اردو غزلیاتشعر و شاعریگلزار

ذکر جہلم کا ہے

ایک اردو غزل از گلزار

ذکر جہلم کا ہے ، بات ہے دینے کی

چاند پکھراج کا ، رات پشمینے کی

کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہو ئی چاندی

رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی

کوئی ایسا گرا ہے نظر سے کہ بس

ہم نے صورت نہ دیکھی پھر آئینے کی

دَرد میں جاودانی کا احساس تھا

ہم نے لاڈوں سے پالی خلش سینے کی

موت آتی ہے ہر روز ہی رُو برو

زندگی نے قسم دی ہے کل، جینے کی

 

گلزار

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button