اردو غزلیاتجوش ملیح آبادیشعر و شاعری

جو مثلِ دوست، عدو کو بھی سرفراز کرے​

ایک اردو غزل از جوش ملیح آبادی

جو مثلِ دوست، عدو کو بھی سرفراز کرے​
اُس آدمی کی خدا زندگی دراز کرے​

وہ کج نہاد ہے آدم کا ناخلف فرزند​
میانِ کافر و مومن جو امتیاز کرے​

زمانہ شحنۂ سلطاں سے کاش یہ کہہ دے​
کہ آہِ گوشہ نشیناں سے احتراز کرے​

جسے ہو ایک توانائیِ عظیم کی دھن​
وہ کیا پرستشِ معبودِ خانہ ساز کرے​

مری دعا ہے کہ اے تاج دارِ ہفت اقلیم​
خدا تجھے بھی مری طرح بے نیاز کرے​

گزر چکا ہوں مقاماتِ آہ و شیون سے​
زمانہ اب تو درِ چنگ و عود باز کرے​

بچھے ہوئے ہیں دل و دیدہ اس تمنا میں​
کہ ایک روز وہ مشقِ خرامِ ناز کرے​

ہتھیلیوں پہ لیے سر کھڑے ہیں اہلِ حرم​
کہ کب وہ دیر نشیں عزمِ ترکتاز کرے​

دیارِ حرف و حکایت میں زلزلے آ جائیں​
اگر وہ لرزشِ مژگاں سے کشفِ راز کرے​

بساطِ کیف پہ رقصاں ہوں انفس و آفاق​
جو مشقِ زمزمہ وہ چشمِ نیم باز کرے​

وہ بندۂ متکبر ہے جوشِ طرفہ مزاج​
جو قدسیوں کو جھڑک دے، خدا سے ناز کرے

جوش ملیح آبادی​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button