Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے
جب تری خواہش کے بادل
میں دل کی شراب
کوئی بھی کیوں مجھ سے
پیغامِ حسینؓ
حاشیہ
کام کی بات میں نے
جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروں
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج
سب سے چھپتے ہیں چھپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں
یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو
چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے
وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز
خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
مستی کے پھر آ گئے زمانے
بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس
وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آنکھوں کو انتظار سے گرویدہ کر چلے
ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی
گھِر کے آخر آج برسی ہے گھٹا برسات کی
حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
زمین بدلی ، نہ ہی آسماں بدلا
بازیافت
آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم
دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
راہزن آدمی راہنما آدمی
مرے سوزِ دل کے جلوے یہ مکاں مکاں اجالے
آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے
چراغِ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے
محبت کے مزاروں تک چلیں گے
کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا
صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں
اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی
زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا
نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس پر اسرار سا ہے
میں تلخیِ حیات سے گھبرا کے پی گیا
کب سماں تھا بہار سے پہلے
پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے
اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر
ایف 7/2 کالج اسلام آباد فار وومن
غلطی بانجھ نہیں ہوتی
موت، مشرف اور انصاف
جوتا مارو سالوں کو
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
شام خزاں کی گم صم بولی
تن سلگتا ہے من سلگتا ہے
چشم ساقی کی عنایات پہ پابندی ہے
<<
1
...
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
...
140
>>