اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

تن سلگتا ہے من سلگتا ہے

جب بہاروں میں من سلگتا ہے

نوجوانی عجیب نشہ ہے

چھاؤں میں بھی بدن سلگتا ہے

جب وہ محو خرام ہوتے ہیں

انگ سرو سمن سلگتا ہے

جانے کیوں چاندنی میں پچھلے رات

چپکے چپکے چمن سلگتا ہے

تیرے سوزِ سخن سے اے ساغر

زندگی کا چلن سلگتا ہے

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button