Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آئینے کے جب منظر افتاد میں ڈھلتے ہیں
آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے
قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے
آنکھ سے گرتے ہوئے اشک کا شک اُٹھتا ہے
رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے
یہ اُداسی سدا بحال رہے
ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں
فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ
ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے
میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں
آنکھوں میں مری پہلی سی بینائی نہیں ہے
سر ہمارے یہ جو مقتل کے حوالے ہوئےہیں
نقش محبت
جلدی
آج کی حوا
ذرا اعتبار کر لے
سیلاب سچ ہے اور در و دیوار خوب ہیں
یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے
میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا
لہو میں ارض و سما بھر کے بھی نہیں بھرتا
اگر دونوں طرف سورج ترازو میں نہیں ہوتا
رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی
گلچیں
دھنک رنگ زندگی
سہیلی
دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے
گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
طویل راتوں کی خامشی میں
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں
ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
زندگی سے ڈرتے ہو؟
کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
گماں کا ممکن
یہ بزم میں نہیں ساقی شراب اڑتی ہے
حزنِ انسان
جا کہیو ان سے نسیمِ سحر!
زندگی اک پیرہ زن !
عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے
ابو لہب کی شادی
رقص
گُلشن میں جب ادا سے وہ رنگِیں ادا ہنسے
تعارف
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں
سفرنامہ
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
میں اسے واقف الفت نہ کروں
دستِ ستمگر
یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
اندھا کباڑی
ہوئی جس سبب ہم سے تم سے جدائی
اے مِری رُوح تجھے
تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں
مسکراہٹیں
بے چارگی
حال نہیں کچھ کھلتا میرا
رخصت
حَسَن کوزہ گر
گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں
منزل بے نشاں
دور سے دیکھنے والے کا گماں ہوتا ہے
<<
1
...
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
...
140
>>