اردو غزلیاتبہادر شاہ ظفرشعر و شاعری

کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے

بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل

کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
میرے دل کو داغ لگا گئے، یہ نیا شگوفہ دکھا گئے

کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے

مرے پاس آتے تھے دم بدم، وہ جدا نہ ہوتے تھے ایک دم
یہ دکھایا چرخ نے کیا ستم کہ مجھ ہی سے آنکھ چرا گئے

جو ملاتے تھے میرے منہ سے منہ، کبھی لب سے لب، کبھی دل سے دل
جو غرور تھا، وہ انھیں یہ تھا، وہ سبھی غرور کو ڈھا گئے

بندھے کیوں نہ آنسوؤں کی جھڑی کہ یہ حسرت ان کے گلے پڑی
وہ جو کاکلیں تھیں بڑی بڑی وہ انہی کے بیچ میں آگئے
بہادر شاہ ظفر ​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button