اتحاد امت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا کردار
ایک اردو تحریر از محمد حجازی
حضرت علی نے حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت کی بہت سی روایات ابتدائی دنوں میں بیعت کی تصدیق کرتی ہیں جبکہ بعض روایات تاخیر سے بیعت کی تصدیق کرتی ہیں ۔ ابوبکر صدیق کا دور خلافت جو تقریباً دو سال کا تھا، کئی اہم خدمات انجام دیں۔ یہ دور اسلام کی ابتدائی توسیع اور اندرونی استحکام کا تھا، جہاں ارتداد کی تحریک (Ridda Wars) اور دیگر چیلنجز تھے۔ حضرت علی کا کردار زیادہ تر مشورتی اور مذہبی رہنمائی کا تھا، کیونکہ وہ خاندانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے اور علم و حکمت کے پیکر تھے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ منکرین زکوۃ اور مدعیان نبوت کے خلاف کھڑا ہونا تاقیامت مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کا عظیم الشان پیغام رکھتا ہے ۔
حضرت علی مسجد نبوی میں قرآن مجید کی تعلیم اور تفسیر کرتے تھے۔ ان کے لیے مسجد میں ایک مخصوص جگہ مختص تھی، جہاں لوگ جمع ہو کر قرآن، اس کی تفسیر، اور حکمت سیکھتے تھے۔ وہ نماز جماعت میں بھی شریک ہوتے تھے، جو مسلمانوں کی رہنمائی اور اتحاد کو مضبوط کرتی تھی
وہ لوگوں کے مسائل حل کرتے تھے اور فقہ، شرعی احکامات، اور دانشورانہ امور میں رہنمائی کرتے تھے۔ بہت سے صحابہ اور عوام ان سے استفادہ کرتے تھے۔
– حضرت ابوبکر نے کئی بار حضرت علی سے مشورہ لیا، خاص طور پر فوجی امور میں۔ مثال کے طور پر، روم (بازنطینی سلطنت) کے خلاف جنگ کی تیاری کے لیے حضرت ابوبکر نے حضرت علی سے رائے لی۔ حضرت علی نے کہا کہ اگر یہ کام شروع کیا تو کامیابی ملے گی، جس پر حضرت ابوبکر نے خوشی کا اظہار کیا اور لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ یہ Ridda Wars کے بعد کی توسیع کی بن گئی۔
حضرت علی نے خلیفہ کو غلطیوں سے بچانے اور درست پالیسیاں اپنانے میں مدد کی۔ وہ ایک قیمتی مشیر تھے، جو اسلامی ریاست کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں معاون تھے۔
حضرت علی کا کردار زیادہ تر اندرونی استحکام اور رہنمائی کا تھا، نہ کہ براہ راست فوجی مہمات میں حصہ لینا (جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا)۔ یہ دور ارتداد کی جنگوں کا تھا، جہاں حضرت علی نے خلیفہ کی حمایت سے اسلام کی حفاظت میں حصہ ڈالا
عمر فاروق کے دور میں
جب حضرت عمر نے ایرانیوں کے مقابلے میں خود جانے کا ارادہ کیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے تقریر فرمائی ” اس کام کا فروغ کثرت اور قلت پر موقوف نہیں ہے ۔ یہ تو اللہ کا دین ہے جس کو اس نے فروغ دیا اور اللہ کا شکر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تائید و نصرت فرمائی ، جو ترقی کرکے اس منزل تک پہنچ گیا ، ہم سے اللہ نے فرمایا ۔ وعد اللہ الذین آمنو منکم ——- اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے کو پورا کر کے رہیں گا اور اپنے لشکر کی مدد ضرور کریں گا ، اسلام میں خلیفہ کا مقام وہی ہے جو موتیوں کے ہار میں رشتے کا مقام ہے رشتہ ٹوٹتے ہی موتی بھکر جاتے ہیں اور نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور پراگندہ ہوئے کے بعد پھر جمع ہونا مشکل ہو جاتا ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ عرب تعداد میں قلیل ہیں مگر اسلام نے ان کو کثیر آور اجتماع نے ان کو قوی بنا دیا ہے ۔
آپ یہاں قطب بن کر جمے بیٹھے رہیں اور عرب کی زمین سے اس چکی کو اپنے گرد گھماتے رہیں اور یہی سے بیٹھے بیٹھے جنگ کی آگ بھڑاتے رہیں ورنہ اگر آپ ایک دفعہ یہاں سے ہٹ گئے تو ہر طرف سے عرب کا نظام ٹوٹنا شروع ہوجائے گا اور نوبت یہ آجائے گی کہ آپ کے سامنے کے دشمنوں کی بہ نسبت پیچھے کے خطرات کی زیادہ فکر لاحق ہوگی ، اور ادھر ایرانی آپ ہی کے اوپر نظریں جمادیں گے کہ یہ عرب کی جڑ ہے اسے کاٹ دو تو بیڑا پار ہے ،
جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ اس وقت اہل عجم بڑی کثیر تعداد میں امنڈ آئے ہیں ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم جو ان سے لڑتے رہے ہیں تو کثرت کی بنیاد پر نہیں لڑتے تھے بلکہ تائید و نصرت الٰہی ہی نے ہمیں آج تک کامیابی دلوائی ہے ”
دور عثمان میں جب مدینہ میں ، کوفہ ، مصر اور شام سے فتہ پرور مدینہ کا رخ کئے اس زمانے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ خود منبر رسول پر جا کر وفود کے غصے کو ٹھنڈا کرتے ، لیکن آپ کے جانے کے بعد مروان بن حکم پھر نمودار ہوکر وفود کو گالیاں دیتا ہے ۔
جب شورش بڑھ چکی تو بزرگ انصار صحابہ زید بن ثابت ،ابو اسید ساعدی ، کعب بن مالک ، حسان بن ثابت رض ملکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس آئے کہ فوری طور پر آپ حضرت عثمان کے پاس چلیں ، آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں جاکر تقریر کی۔ اور فرمایا
” میں کوئی ایسی بات نہیں جانتا ہوں جس کی آپ کو خبر نہ ہو ، میں کوئی ایسا امر نہیں بتا سکتا جس سے آپ واقف نہ ہوں ، ہم کو آپ پر کسی شئے میں سبقت نہیں ، ہم نے آپ سے علیحدہ کچھ نہیں سیکھا جس کی آپ کو تبلیغ کرسکے ، جو کچھ ہم نے دیکھا وہ نے بھی دیکھا ، جو کچھ ہم نے سنا وہ آپ نے بھی سنا ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے جیسا کہ ہم رہے۔ ابوبکر و عمر آپ سے افضل نہ تھے ۔ آپ ان دونوں سے بڑھ کر قرابت داری رکھتے ہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داماد ہونے کا شرف آپ کو حاصل ہے جو ان دونوں کو نہ تھا ، آپ ان سے زیادہ تقدم بالحق کے مستحق ہیں
اے عثمان میں آپ کو اللہ کی سطوت اور انتقام کا خوف دلاتا ہوں کیونکہ اللہ کا عذاب نہایت شدید اور درد ناک ہوتا ہے میں آپ کو اس بات سے بھی ڈراتا ہوں کہ کہیں آپ اس امت کے ایسے شھید حاکم نہ بن جائیں جس کی شھادت سے روز قیامت تک قتل وغارت کا دروازہ کھل جائے اور پھر واقعات و حوادث اس طرح مشتبہ ہو جائیں کہ مسلمان گروہ بندیوں میں بٹ جائیں اور باطل کے غلبے کی وجہ سے حق کو نہ دیکھ سکیں اور ان باتوں میں وہ بری طرح ملوث ہو جائیں گے اور انہیں ان سے الگ کرنا مشکل ہو جائیں گا”
جب حضرت عثمان غنی کی شہادت سنی تو دوڑتے ہوئے آئے اپنے زخمی صاحب زادے حسن کو غصے سے چانٹا مارا اور حسین کو دو چماٹ مارے اور کرب سے اپنے دو ہاتھ اوپر اٹھا کر فرمایا”باری تعالیٰ میں عثمان کے خون سے بری ہوں اور اے لوگو اب تم پر ہمیشہ تباہی رہے گی ”
بقول حضرت علی: جس نے دین عثمان سے بیزاری کا اظہار کیا وہ ایمان ہی سے بیزار رہا” رحمت للعالمین جلد دوم
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جب اپنے دور خلافت میں بصرہ تشریف لے گئے تھے تب لوگوں نے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے عہد لیا تھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ ان کے خلیفہ ہوں گے ؟ آپ اس حقیقت سے ہمیں آگاہ فرمائیں (اس واقعے کو علامہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں حضرت حسن سے نقل کیا ہے)
جواب حضرت علی: واللہ یہ غلط ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی عہد کیا تھا ۔ جب میں سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ کیوں بولو ؟
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خلیفہ بنانے کا عہد مجھ سے کیا ہوتا تو میں ابوبکر و عمر کو ممبر نبوی پر کھڑے نہ ہونے دیتا اور اپنے ہاتھوں سے ان دونوں کو قتل کردیتا اگر چہ اس معاملے میں کوئی میرا ساتھی بھی نہ ہوتا ۔ پھر اس بات پر غور کروں کہ رسول صلی اللہ علیہ نہ تو اچانک قتل ہوئے نہ کسی دوسرے طریقے سے آپ کو ناگہانی موت آئی بلکہ ایک عرصے تک بیمار رہے ۔ مؤذن آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھانے کے لیے کہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ابوبکر امامت کریں ———ابوبکر ہمارے دین کے سردار اور اسے قائم و مستحکم کرنے والے تھے اس لیے ہم نے ان سے بیعت کرلی اور وہ اس کے اہل تھے ۔ ان کو خلیفہ بنانے میں ہم میں سے کسی ایک نے بھی اختلاف نہیں کیا ، یقیناً کوئی ابوبکر سے بیزار نہیں ہوا ، ان کے بعد انہوں نے عمر کو خلیفہ نامزد کیا وہ خلیفہ ہونے ہم میں سے کسی نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ان بےشمار خدمات اور اتحاد امت کے لئے دی گئی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے امت مسلمہ کو الگ الگ فرقوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ہمیشہ امت مسلمہ کی وحدت کو مقدم رکھا اور بے لوث ہر میدان میں خدمات انجام دیا ۔
محمد حجازی







