آپ کا سلاماختصاریئےاردو تحاریرصنم فاروق حسین

کچھ باتیں ضروی ہیں

ایک اردو تحریر از صنم فاروق

کچھ باتیں ضروی ہیں
پر کہنے کو ادھوری ہیں

نہ جانے ذندگی کب اگلا موڑ بدلے گی۔
کیا ہم اس کے لیے تیار ھوں گے۔یا ہم ہار جائیں گے۔
یہ سوال کبھی کبھی بہت تنگ کرتے ہیں۔۔بہت سی باتیں سوال۔ذہن میں آتے ہیں۔
یہ الجھن میں تب تبدیل ھوتے ہیں۔جب ہم اللہ سے دور ھوتے ہیں۔جب ہمارا ایمان۔کمزور ھوتاھے۔
ایسی بھی بات نہی کہ ھم کمزور ہیں۔بس ہم خود کو اس مشکل وقت سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔جہاں ہماری خامیاں۔ہمارے سامنے آجاتی ہیں۔خقیقت میں وہی سچ ھے جس سے ہم دور بھاگتے ہیں۔اپنی اصلاح کرنا خود کو بہتر بنانا کیونکہ ہم وہ بننا نہی چاہتے۔ہم تو امیر رعب دار۔سمجھدار۔شہرت یافتہ جیسی منزل تک جانا چاہتے ہیں۔
یہ اصلاح۔شعور۔عقل وفہم کے معمالات تو ہمیں مشکل لگتے ہیں۔
مگر وقت سے بڑا نہ کوئ استاد ھے نہ امتخان۔ یہ جب سیکھاتا۔ ھے تو سخت ترین امتخانات کے ساتھ سیکھاتا ھے۔اور ھمیں مجبور کر دیتا ھے سیکھنے کو۔سمجھنے کو اور ہم پھر وقت کے ہاتھوں تراشے ھوۓ وہ انسان بن جاتے ہیں۔جنہی اشرف المخلوقات کہتے ہیں۔اس استاد سے کوی بھاگ نہی سکتا۔نہ کوئ اس جماعت سے چھٹی لے سکتا ھے۔ زمانہ۔ حالات۔ جیب۔ مشکلیں ۔بھوک و افلاس اس کے نصاب کا حصہ ھوتے ہیں۔ جو سمجھ جاتا ھے وہ کامیاب ھو جاتا ھے۔ اور پھر وہ ہر امتخان میں ثابت قدم رہتا ھے۔ اور جو ہار جاتا ھے وہ ھمیشہ کے لیے بزدل رہتا ھے کمزور اور صرف تنقید و باتیں کرنے والا۔
ذندگی کے ہر پہلو میں اک نصاب ھے۔ اک استاد ھے۔ اک سبق ہے۔ جہاں کون کتنا کتنا شعور لگتا ھے یہ تو اپنے اپنے فہم کی بات ھے۔ پر میں نے ذندگی میں بہت سے لوگوں کو دوسروں پر تنقید کرتے۔
انکو مشورے دیتے اور سمجھاتے دیکھا ھے لیکن خقیقت میں وہ لوگ خود کچھ نہی ھوتے کیونکہ آپ کو ہر انسان اپنے تجربے سے مشورہ دے گا۔اور ھر تجربہ کامیاب نہی ھوتا۔
خود کو عقل وفہم کے درجے پر لا کر خود کو تلاش کریں آپ کے اندر اک چھپا استاد ھے اس سے سیکھیں۔کیونکہ اپنی ذات کو بہتر بناتے بناتے جو تجربہ حاصل ھوتا ھے وہ کسی نصاب سے نہی ھو سکتا۔جب تک خود پہ نہ گزرے تب تک سمجھ نہی آتی۔
اور ذندگی ہر بار نہ موقعہ دیتی ھے نہ ساتھ بہت سی بار ہمیں گہری گھائ میں خود کے اٹھاۓ ھوۓ قدموں سے گرنا پڑتا ھے۔اور پھر عقل کا استعمال کر کے خود کو باہر بھی نکالنا پڑتا ھے اگر اس گہرے کھائ سے ذندہ بچ گۓ تو ورنہ موت تو سر پر شکار کی طرح تیار کھڑی ھے۔کب آجاۓ کس کو معلوم۔
کچھ باتیں بہت ضروری ھوتی ھیں۔جن کو نہ ھم اہمیت دیتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلیے ہر دوسرے تیسرے شخص سے مشورہ لینے چل پڑتے ہیں۔اور خود کا نہ صرف مذاق بنواتے ہیں بلکہ خود کو کم عقل بھی کہلواٹے ہیں ۔اور لوگ تو موقعہ پرست ھوتے ہیں کب کوئ تفریح کا ساماں ہاتھ لگے اور وقت گزاری ھو۔چاھے وہ کسی کی ذندگی کا اذیت ناک لمحہ ہی کیوں نہ ھو۔
خود کو اتنا سمجھدار ہونا چاھیے کہ راز کے ساتھ خود کو کام سنوارے جاسکیں اور دوسروں کے لیے رہنما بن سکیں۔بغیر کسی لالچ کے۔اور آج کے دور میں مخلص انسان بہت نایاب ہیں

صنم فاروق حسین

post bar salamurdu

عائشہ فاروق حسین

وابستہ ہے رب سے ذات ھماری ھماری روح کا جو سکون ھے۔ ذکر الہی کرنے میں رہنے والوں کا صنم رب سے الگ ہی عشقِ جنون ھے۔ رقیب تحریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button