اردو غزلیاتشعر و شاعریمنیر نیازی

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا

ایک غزل از منیر نیازی

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا
اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں

اِک رات کِسی برکھا رُت کی
کبھی دِل سے ہمارے مِٹ نہ سکی

بادَل میں جو چاہ کا پُھول کھِلا
وہ دُھوپ میں بھی کُمھلایا نہیں

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا
اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں

کَجرے سے سَجی پیاسی آنکھیں
ہر دوار سے دَرشن کو جھانکیں

پر جِس کو ڈُھونڈھتے مَیں ہارا
اُس رُوپ نے دَرَس دِکھایا نہیں

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا
اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں

ہر راہ پہ سُندر نار کھڑی
چاہت کے گیت سُناتی رہی

جِس کے کارن میں کَوی بنا
وہ گیت کِسی نے سُنایا نہیں

جِس نے مِرے دِل کو درد دِیا
اُس شکل کو مَیں نے بُھلایا نہیں

منیرؔ نیازی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button