Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا
سراب
ستم سکھلائے گا
شرح فراق مدح لب
چاند نکلے کسی جانب
کس شہر نہ شہرہ ہوا
گو سب کو بہم ساغر و بادہ
کچھ پہلے ان آنکھوں آگے
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار
وہ بتوں نے ڈالے ہیں
آپکی یاد آتی رہی
حسن مرہون جوش بادۂ ناز
جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں
احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی
دل میں وہ درد تھا ہونٹوں پہ دعا پھیل گئی
وقت بے وقت محبت نہیں اچھی ہوتی
امیر شہر سے جب اختلاف کرتا ہوں
تیری خوشی کے واسطے میں بے وفا ہوا
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
سنگم کا ٹینڈوا
انتظار
دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا
میں فقط چلتی رہی
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھا
یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے
وداعی بوسہ جبیں پہ رقم کیا جائے
ورغلانے کی اجازت
کے الیکٹرک اور اقبال
گوش بر دیوار ہے
کچرا بابا
کفن دفن
خونی تھوک
زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ
پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
کمپی کاری کا قاتل
عالم بخش اور کالا ریچھ
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
ماموندر کی آدم خور
کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں
راما پرم کا آدم خور
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں
گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں
حال نہیں کچھ کھلتا میرا کون ہوں کیا ہوں کیسا ہوں
یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
مدیانور کا بڑا تیندوا
راج نگرا کا قصاب
کبڑا داؤد
بابوگوپي ناتھ
روٹی کھاتی مورتیاں
خواب کے روپ میں نہیں
سیلف میڈ لوگوں کا المیہ
جگر مراد آبادی
ناراض جیالوں کا مقدمہ
قوال پارٹی
دل خدا جانے کس کے پاس رہا
یہی جو سودا ہے مجھ
تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
جب سے باندھا ہے تصور
<<
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
...
140
>>