A True Salam To Urdu Literature

Naraz Jiyaloon Ka Muqadama

An Article By Ali Abdullah Hashmi

پیپلزپارٹی کے (پکے معدے والے) ناراض کارکنان سے بندہ پوچھے کہ جب وہ برسرِعام پارٹی پر تنقید کرتے ہیں اور کئی ایک تو لاتعلقی کا اعلان کرتے ہچکچاتے بھی نہیں تو پھر ووٹ کس چکر میں پیپلزپارٹی کو ڈالتے ہیں؟ تو انکی اکثریت بھٹو صاحب یا شہید رانی کی بابت اپنی کمٹمنٹ کا بہانہ کرتی ہے۔ ذرا سا ذور ڈالیں تو انکو آصف علی زرداری پر غصہ نکل آتا ہے کہ “زرداری نے پارٹی کو تباہ کر دیا” ہے۔ بس یہی وہ جگہ ہے جہاں سُننے والے اپنی طرف سے کہا ان کہا سب سمجھ جاتے ہیں اور ناراض کارکن سے “کیسے؟” یعنی کیسے زرداری نے پارٹی کو تباہ کیا ہے؟ پوچھے بنا ہی فتویٰ صادر فرما دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی ہے۔

کل رات ایسے ہی ایک ناراض جیالے سے شرفِ ملاقات ہوا اور میں نے اپنے آپ کو سیانا سمجھنے کی بجائے ناراض دوست ہی سے پوچھ لیا کہ”آصف زرداری نے کیسے پارٹی کو تباہ کیا؟” خلافِ توقع جواب سے گفتگو کا جو سلسلہ نکلا وہی آج کی تحریر کی اساس ہے۔

ملک صاحب (ناراض جیالا) بولے، “آصف زرداری نے پیپلز پارٹی سے اُسکی روح، مزاحمتی_سیاست نکال کر پارٹی کو بے رُوح کر دیا ہے” جواب کا لُطف لیکر میں کہا، “اگر آپ آصف زرداری جیسے کاروباری شخص سے بی بی شہید یا پھر بھُٹو جیسی لیڈرشپ یا وژن کی توقع رکھتے ہیں تو قصور تو کس کا ہے؟ میرا آصف زرداری کو بے نظریہ کاروباری شخص کہنا تھا کہ ملک صاحب کی آنکھوں نے مجھے کسی نوزائیدہ جیالے کیطرح دیکھا مگر میری مونچھوں میں سفید بالوں کا احترام کرتے ہوئے بولے، “آپ آصف زرداری کو بالکل بھی نہیں جانتے۔ 1990/91 میں جب بطور MNA زرداری صاحب پہلی مرتبہ پروڈکشن آرڈر پر جیل سے باہر آئے تو ہم لاہور یوتھ کے لڑکے ان سے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ملے۔ دعا سلام کے بعد جب ہم نے انہیں بی بی صاحبہ کی کرسی پر بیٹھنے کی درخواست کی تو انہوں نے ہاتھ باندھ کر اس سے معذرت کی اور بغلی کرسی جو غالباً ناہید خان کیلئے تھی پر براجمان ہو گئے۔ انہوں نے ساڑھے چار گھنٹے کی طویل ملاقات میں نظریہ، تنظیم اور تنظیم سازی پر ہمیں ایک طویل لیکچر دیا۔” میں نے پوچھا کونسا نظریہ؟ تو جھٹ سے بولے “سوشلزم.. بالخصوص تنظیم سازی پر زرداری صاحب نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے لگا کر ہمیں سمجھایا کہ ملک کے کس کس خطے میں کن کن امور پر کام کر کے مضبوط ترین تنظیم سازی کی جا سکتی ہے۔۔”

میں حیران ہوا تو ملک صاحب مسکرائے مگر یہ مسکراہٹ انکے ماتھے پر اُبھرنے والی لکیروں میں ہی گُم ہو گئی اور متفکر چہرے کیساتھ بولے، “بی بی صاحبہ کی شہادت کے بعد آصف زرداری کی مفاحمتی پالیسی نے پارٹی سے اسکی مزاحمتی روح چھین لی۔” میں نے لقمہ دیا کہ میرے نزدیک تو بی بی صاحبہ کی زندگی میں ہم لوگ انکے عورت ہونے کیوجہ سے بار بار بند گلی میں جا کھڑے ہوتے تھے جو زرداری کیساتھ نہیں ہوا۔ (سلمان تاثیر کے قتل سے لیکر میمو گیٹ تک اور وہاں سے لیکر اتحادیوں کی مسلسل بلیک میلنگ تک آصف زرداری نے پارٹی کو بند گلی میں کھڑا نہیں ہونے دیا بلکہ انتہائی زیرک طریقے سے معاملات کو آگے بڑھایا)۔ تو ملک صاحب بولے “یہ وہ آصف علی زرداری نہیں ہے جسے ہم ایک زمانے میں جانتے تھے, ان دنوں پارٹی لیڈرشپ میں بھی یہ مشہور تھا کہ زرداری صاحب “اُونٹ صفت” ہیں، کبھی اپنے دشمن کو نہیں بھولتے، کبھی معاف نہیں کرتے۔ جب زرداری صاحب 1993 کے عبوری سیٹ اپ میں وفاقی وزیر ماحولیات بنے تو کراچی یا نوابشاہ کی بجائے سیدھے لاہور آئے۔ پیپلز یوتھ کے لڑکوں نے لاہور ائرپورٹ ہینگرز تک جانا چاہا تو ائرپورٹ سیکیورٹی فورس سے ہماری لڑائی ہو گئی۔ لڑائی اتنی بڑھی کہ جہاز کی سیڑھیوں تک چلی گئی۔ اعتزاز احسن اور زرداری صاحب نیچے اترے تو بجائے یہ کہ وہ چلے جاتے، دونوں عین لڑائی کے درمیان آن دھمکے، میری اسوقت ایک افسر کیساتھ اونچی آواز میں تکرار جاری تھی کہ اعتزاز احسن ہم دونوں کے بیچ میں آ گئے۔۔ دونوں ہاتھوں سے میرا چہرہ اپنی طرف کیا اور بولے، “بس کر دے پُتر، پِچھے مالک آگیا اے” اُسی وقت زرداری صاحب نے پیچھے سے میرا داہنا کندھا دبا دیا اور ہم سب کچھ بھول گئے۔۔” ملک صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ میری آنکھیں سُکڑ کر اُبھریں۔ دل و دماغ میں جھماکا ہوا اور میں نے کہا، ملک صاحب، آپکا مسئلہ تو نِجی ہے، آپکا مسئلہ (کندھا دباتے ہوئے) تو لمس کا ہے، آپکی لڑائی تو اونرشپ کی ہے” تو وہ بیساخستہ بولے کہ “بالکل، مجھے وہی آصف زرداری واپس چاہیے جسے میں جانتا ہوں، مجھے میری اونرشِپ واپس چاہیئے، انہوں نے قیادت کے آگے فلٹر لگا دیئے ہیں جنہیں میں تسلیم نہیں کر سکتا۔ میں بی بی صاحبہ سے پہلی بار لاہور کے کُوفے(ریواز گارڈن) میں ملا۔ کُوفہ اسلیئے کہ یہ نواز شریف کا اپنا حلقہ تھا اور اسکے ہر گھر میں نواز شریف نے سرکاری نوکریاں دروازے پر دستک دیکر بانٹی تھیں۔ میں میرے گھر میں واحد پِپلیا تھا اور بوجہ رشتہ داری کلثوم نواز میاں صاحب جب بھی حلقے میں آتے ہمارے گھر ضرور آتے اور اُس گھر میں آتے جسکی چھت پر پی پی کا جھنڈا بزورِ بازو لگا ہوا تھا۔ صبح 1990 کا الیکشن تھا، کوئی فجر کے پاس ہمارے الیکشن بوتھ کے پاس پجارو آکر رُکی، شیشہ اترا تو جہانگیر بدر کو دیکھ کر میں پرچیاں لکھنا چھوڑ گاڑی کیطرف لپکا۔ پاس آنے پر مجھے بی بی صاحبہ نظر آئیں جنہوں نے مجھ سے میرا نام، تعلیم اور اس وقت تک ہال پر ہونے کیوجہ دریافت کی۔ جاتے ہوئے انہوں نے مجھے جلدی سوجانے اور اگلے دن الیکشن کیلئے نیک تمنائیں دیں اور پجارو ساندھے کیجانب چلی گئی۔ اسکے بعد بی بی صاحبہ سے جب جب سامنا ہوا انہوں نے مجھے میرے نام سے پکارا، میری تعلیم کا پوچھا اور کئی دفعہ تعلیم مکمل ہونے سے پہلے سیاست کرنے پر کان کھینچے۔ مجھے آجتک یاد ہے کہ بی بی صاحبہ اپوزیشن لیڈر تھیں تو کامونکی کے ایک یوتھ کوٹے پر ایم این اے بنے لیڈر کے گھر پر میں باہر لان میں سگریٹ سلگا کر بیٹھا تھا کہ بی بی صاحبہ اکیلی باہر نکل آئیں، میں نے فوراً سگریٹ پھینکا، سلام کر کے نکلنے لگا تو انہوں نے منع کر دیا اور بولیں۔۔

“No, No, come on, walk with me”

اس دن انہوں نے مجھ سے میرے گھر بار، تعلیم، خاندان کی سیاسی استواری حتہ کہ یہ بھی پوچھا کہ میں پیپلزپارٹی میں کیسے ہوں؟ تو میں نے ان سے کہا

“I am in PPP by choice”

جس پر بی بی صاحبہ بہت خوش ہوئیں۔
ملک صاحب بظاہر تو واقعہ سنا رہے تھے مگر وہ شائد خود بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ بدنی طور پر اس میں سے دوبارہ گُزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی بی کیساتھ چلتے ہوئے انکے رونگٹے کھڑے ہو گئے جبکہ میں دیکھ رہا تھا کہ عین اُس وقت جب واقع سناتے انھوں نے کہا کہ “دروازہ کھُلا اور بی بی صاحبہ اکیلی باہر نکل آئیں” اُس وقت اُنکی آنکھوں سے میں نے سٹپٹا کر اُنہی کو کھڑے ہوتے دیکھا۔ باقی سارے واقعے میں انکے رونگٹے آج تیس برس بعد بھی کھڑے رہے۔۔

ایک زمانے میں میرے ابا جی کہا کرتے تھے کہ “پیپلز پارٹی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مذہب ہے” اور میں نے اپنے بڑوں (جیالوں) کو بھٹو خاندان کی پُوجا کرتے دیکھا ہے۔ سچے پُچاری کیلئے اسکی شردھا اُسکی مُورتی سے جُڑی ہوتی ہے۔ اگر اُس مُورتی کو ہٹا دیں تو پجاری کا من مائل ہونے میں سمے

لگتا ہے لیکن اگر ہم اسکی مورتی تو زبردستی اس سے چھین لیں تو پہلے تو وہ اسے ڈھونڈے گا اور ناں ملی تو دوبارہ اس مندر میں پیر نہیں رکھے گا اور یہی پیپلزپارٹی کے ناراض کارکنان کیساتھ ہوا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مزاحمتی سیاست اور آصف زرداری جدا نہیں رہ سکتے لیکن اگر کوئی اسکی

قیادت، اسکی اونرشپ یا انکے لمس کے درمیان حائل ہوگا تو بھلے وہ اپنی فطرت پر پارٹی کو ووٹ دیتا رہے مگر کہلائے گا ناراض جیالا۔۔
ناراض جیالے ملک احمد اعوان  کو آصف زرداری کو مزاحمتی سیاست کرتے ہوئے دیکھنے کی جتنی خواہش ہے اس سے کہیں زیادہ وہ اسکے ہاتھوں کے لمس کو اپنے

کاندھے پر محسوس کرنا چاہتا ہے اور پجاریوں کی جات میں یہ ایک لاعلاج مرض ہے۔ وہ حسن محمود چودھری  جو چھ وقت کا نمازی اور کٹر محمدی ہے اپنے سے آدھی عمر کے  کے سامنے یونہی سر جھُکا کر کھڑا نہیں ہوتا۔۔ یہ بھی اسکی عبادت ہے۔ آج پارٹی قیادت اگر ناراض

کارکنان کی بابت فکرمند ہے تو اسے انکا بلاول، انکا آصف زرداری واپس کرنا پڑے گا نہیں یقین آتا تو ناراض پجاری کے سامنے اسکی مورتی رکھ کر ٹیسٹ کر لیں۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Comprehensive Biographic Note On Jigar