Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
خوشی کی بات ہے
کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے
ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی
یہ عجب ساعت رخصت ہے کہ ڈر لگتا ہے
دل دکھوں کے حصار میں آیا
اتنا آساں نہیں مسند پہ بٹھایا گیا میں
زندگی زندہ ہے لیکن کسی دم ساز کے ساتھ
شاہد کبیر
ناکے پہ ڈاکا
بڑھاپے میں جوانی کی یادیں
یہ پیڑ اور پرندے عجب اداسی ہے
مولانا محمدحنیف شہید
وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی
آرٹسٹ لوگ
کب محض تسکینِ جان و دِل
مجھے اب اور نا سینا
ذرا ٹھہرو
تُو رسُولِﷺ حق، تُو قبولِ حق
بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
کھول دو
سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
پجیرو بھی کھڑی ہے
کوئی مانے یا نہ مانے
دل کی بات لبوں پر لا کر
ملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد
موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر
انور مسعود
ہےآپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کا
صرف دعا فرما دیں
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
شریفن
قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے
خانہ بدوش
کالی شلوار
منٹو پر فحاشی کا الزام
اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا
ہم دنیا سے جب تنگ آیا کرتے ہیں
اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ
اصلی جن
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا
آدمی وقت پر گیا ہوگا
بے قراری سی بے قراری ہے
ہوا دم سادھ لیتی ھے تو پھر ھُو بولتے ھیں
دھوم تھی اپنی پارسائی کی
ساڑھے تین آنے
سلام نیٹشے
کولاژ
منٹو کی شادی
دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
غالب اور سرکاری ملازمت
بائی فوکل کلب
اب کسی سے مرا حساب نہیں
پرانے خدا
ٹھنڈا گوشت
راز الفت چھپا کے دیکھ لیا
پانی کا درخت
چندرو کی دُنیا
دس روپے
یاد کا پھر کوئی دروازہ
تھالی کا بینگن
دو بَیل
ہدایت کار
سو روپے
سرخ ٹوپی
<<
1
2
3
4
5
6
7
8
9
...
140
>>