اردو غزلیاتتیمور حسن تیمورشعر و شاعری

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل

موتی نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں

دریا ترے وجود کا حصہ تو میں بھی ہوں

اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے

ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو میں بھی ہوں

مجھ میں اور اس میں صرف مقدر کا فرق ہے

ورنہ وہ شخص جتنا ہے اتنا تو میں بھی ہوں

اس کی تو سوچ دنیا میں جس کا کوئی نہیں

تو کس لیے اداس ہے تیرا تو میں بھی ہوں

اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے

مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو میں بھی ہوں

اک آئنے میں دیکھ کے آیا ہے یہ خیال

میں کیوں نہ اس سے کہہ دوں کہ تجھ سا تو میں بھی ہوں

تیمور حسن تیمور

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button