Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ہتّک
الجھن
نیا سال
کوئی چہرہ کِسی دیوار سے نکلا ہی نہیں
پرمیشر سنگھ
افشائے راز
سہائے
اردو زبان کی بنیادی معلومات
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
قطرہ مانگے جو کوئی، تُو اُسے دریا دے دے
اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے
اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا
ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے
ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا
پہلا عشرہ
جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
بھٹو کا جیالا اور آصف زرداری
ونی کاری اور بھٹو
بھٹو آخر کیوں؟
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحب ہوش
فطرت کو خرد کے روبرو
کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک
آدمی وقت پر گیا ہوگا
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
نہ پوچھ اس کی
اب کسی سے مرا حساب نہیں
یہ اکثر تلخ کامی
جانے کہاں گیا ہے
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
دل نے وفا کے نام پر
اب وہ گھر اک ویرانہ تھا
کُچھ جَدید اِصطِلاحات کےاردو نام
اردوان اور سامراجی قوت
یہ نام ممکن نہیں رہے گا
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
سیاسی بونگا
تُمھیں خبر ھی نہیں کیسے سر بچایا ھے
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
حال کُھلتا نہیں جبینوں سے
محبت کی ایک نظم
شادی کی دعوت
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے
کھوٹے سِکوں کا پاکستان
ہنوذ دِلّی دُور است
دل میں چاہت ہے تِری آنکھ میں چہرہ تیرا
دشت میں شہر بسانے کے لیئے آیا ہوں
تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں
بچھی رہتی ہے سارا سال جس پر برف کی چادر
چوکھٹ نبی ﷺکی چھوڑ کے
مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے
اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے
بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں
جمع تم ہو نہیں سکتے
ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ
کل ہمیشہ کی طرح اس نے کہا یہ فون پر
جتنی دعائیں آتی تھیں
خاموشی رات کی دیکھتا ہوں
اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں
دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط
آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سوچتا ہوں كے اسے نیند بھی آتی ہوگی
کتنی زلفیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
<<
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
...
140
>>