- Advertisement -

اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے

ایک اردو غزل از نوشی گیلانی

اِک پشیمان سی حسرت مُجھے سوچتا ہے
اب وُہی شہر محبت سے مُجھے سوچتا ہے

میں تو محدُود سے لمحوں میں مِلی تھی اُس سے
پھر بھی وہ کِتنی وضاحت سے مُجھے سوچتا ہے

جِس نے سوچا ہی نہ تھا ہجر کا ممکن ہونا
دُکھ میں ڈوُبیہُوئی حیرت سے مُجھے سوچتا ہے

میں تو مَر جاؤں اگر سوچتے لگ جاؤں اُسے
اور وہ کِتنی سہُولت سے مُجھے سوچتا ہے

گرچہ اب ترکِ مراسم کو بہت دیر ہُوئی
اب بھی وہ میری اجازت سے مُجھے سوچتا ہے

کِتنا خوش فہم ہے وہ شخص کہ ہر موسم میں
اِک نئے رُخ نئی صُورت سے مُجھے سوچتا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از شاہد زکی