- Advertisement -

بند ہتھیلی میں ہیں سب

بینا گوئندی کی ایک اردو غزل

بند ہتھیلی میں ہیں سب

جنگل ویرانے اور شب

دریا اتر گیا تو کیا

نیا ڈوب گئی ہے اب

پلکیں نم تھیں اور کوئی

میرے سنگ نہ رویا تب

لوگ مجھے پاگل کہتے

سچ کے موتی چنتی جب

جیون مجھ سے روٹھ گیا

بیناؔ دستک دی تو کب

بینا گوئندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بینا گوئندی کی ایک اردو غزل