SalamUrdu.Com
A True Salam To Urdu Literature

Bhutto Aakhir Kiyoon

An Article By Ali Abdullah Hashmi

بھٹو آخر کیوں؟

پوچھو اپنے اجداد سے، جب تمھاری عورتیں چوھدری کے گھر سے چاٹی کی لسی لینے جاتی تھیں تو کیا وہ مفت ملتی تھی؟ پوچھو اپنی دادی نانی سے کس نے تمھارا باپ دادا کیلئے تعلیم مفت کی تا کہ تم لوگ پڑھ لکھ کر ذات پات کے معاشی نظام سے باہر نکل جاو؟ پوچھو اپنی اماں سے وہ کس کا دور تھا جب زیادتی کرنے پر ایک “کمّیِ” نے زمیندار کے بیٹے کے منہ پر پہلا تھپڑ مارا تھا؟ پوچھو اپنے ابا سے وہ کونسی پہلی پیڑھی تھی جس نے تمھارے ہندو سماج کے بنائے ہوئے عزت دار طبقوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر آنکھیں کھولی تھیں؟ آج بھٹو کے نام پہ پھبتی کسنے والے بھول گئے ہیں کہ اگر بھٹو نہ ہوتا تو آج وہ عزت دار ناں ہوتے، انکی مائیں آج بھی چاٹی کی لسی لینے جاتیں تو چوہدری کے گھر کے جھوٹے برتن دھو کر واپس آتیں۔۔ (لحاظ کیا ہے) احسان فراموش عزت دارو آج اگر کوئی زمیندار راہ چلتے تمھاری بیٹی کا ہاتھ پکڑنے ‏کی جُرآت نہیں کرتا تو تم نے یا تمھارے باپ داد نے کوئی طُرم خانی نہیں کی۔

وہ بھٹو تھا جس نے بیرونِ مُلک ملازمتوں کے دروازے کھلوا کر اس گلے سڑے گھٹیا سماج کو چیر ڈالا جس میں آٹے چاول سے لیکر مٹی کے تیل تک کیلئے نچلے طبقات اونچے طبقات کے مرہونِ منت تھے۔ تمھارے گھر پیسہ آیا، ٹی وی ‏آیا، موٹر سائکل آیا، تمھارے بڑوں نے کچی سے لیکر میٹرک تک مفت تعلیم حاصل کی، تمھارے باپ داد کبھی کالج کا منہ نہ دیکھ سکتے اگر بھٹو اعلان نہ کرتا کہ ہر پبلک ٹرانسپورٹ پر طالب علم فری سفر کرے گا۔۔ تمھارے آباء پڑھے لکھے، تو اس نے ملازمتوں کے منہ کھول دیئے۔ پوچھو اپنے دادے سے کس نے غریب آدمی کیلئے سرکاری ملازمتوں کا در کھولا اور اُمراء کی چودھراہٹ پر تُمھارا جُوتا رکھ دیا۔ آج اگر غریب کا بیٹا اٹھ کر استحسال کرنے والے کے منہ پر گالی نکالتا ھے تو یہ جُرآت ذوالفقار علی بھُٹو کی دی ہوئی ھے۔ اگر آج ایک پڑھی لِکھی ماں نے تمھیں ‏معاشرے کا جاگا ہوا فرد بنایا ھے تو یہ پڑھی لکھی ماں بھُٹو کی دین ھے، نہیں یقین آتا تو ہندوستان کا سماجی ڈھانچہ دیکھ لو جسکی تُم باقیات ہو۔ یہ ملک، یہ قوم خود کو زندہ کہتی ھے؟ میری نظر میں مردار ہیں، وہ سب کے سب جو اپنے باپ دادا کو عزت دار بنانے والے کو بھول گئے۔۔ ‏محمؐدِ عربی جنکے برتے پر تُم اپنی عاقبت سے مطمعن ہو انکا فرمان ھے۔۔ “جو شخص احسان فراموش ھے، قیامت کے دن میں مُحؐمد اُسکی شفاعت نہیں کروں گا” تُم اور تمھارے اجداد احسان فراموش اور تاریخ کا کُوڑا ہیں اور یہ بات میں آج جانتا ہوں

ازقلم: علی عبداللہ ہاشمی

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
An Article By Ali Abdullah Hashmi