اردو غزلیاتشعر و شاعریمحبوب صابر

کوئی چہرہ کِسی دیوار سے نکلا ہی نہیں

ایک غزل از محبوب صابر

کوئی چہرہ کِسی دیوار سے نکلا ہی نہیں
میں بھی غم خانئہ بازار سے نکلا ہی نہیں

لاکھ سُورج بھی اُچھالے ہیں، اُجالے بھی کئے
ایک سائیہ ہے کہ اشجار سے نکلا ہی نہیں

اُس نے دیکھا تھا نظر بھر کے کچھ ایسے خودکو
آئنہ رنگ کے گلزار سے نکلا ہی نہیں

ہِجر کے پل سے گزر کر بھی وہی صُورت ہے
وہ مرا پیار، مرے پیار سے نکلا ہی نہیں

لاکھ دُنیا یہ بُلاتی ہی رہی اپنی طرف
دل مہکتے ہوۓ اُس غار سے نکلا ہی نہیں

روز محبوب مِرے دل سے دھواں اٹھتا ہے
میں ابھی تک ترے انگار سے نکلا ہی نہیں

محبوب صابر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button