Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ایک ہے میرے حضر اور سفر کی صورت
کبابِ سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر
مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے
پوچھا نہ جائے گا
پُرسِش کو مری کون مرے گھر نہیں آتا
مرے بس میں یا تو یارب
پوچھا نہ جائے گا جو
امیر لاکھ اِدھر سے اُدھر زمانہ ہوا
سَرَکتی جائے ہے رُخ سے
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
یہ سب ظہورِ شانِ
مُوئے مِژگاں سے تِرے
عِشق میں جینے کے بھی لالے پڑے
نِیم جاں چھوڑ گئی
تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے
ہنس کے فرماتے ہیں
اس کی حسرت ہے جسے
رندِ خراب تیرا
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو
میں رو رو کے آہ کروں گا
گر یہ بے سود ہے
مے پئیں کیا کہ کچھ فضا ہی نہیں
ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں
تعریف سُخن کی
کب میں گلشن میں باغ باغ
رو رو کے کیا ابتر
دیکھ آئینہ میں عکسِ
آخری جلسہ
انشاء کا اعظمی کو پہلا خط
انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط
قیامت مجھ پہ سب اس کا
نے ہوں چمن کا مائل
ہوا سے زلف و رخ میں
عشق کب تک آگ سینہ
زنگِ الم کا صیقل ہو
کروں شکوہ تو بے وسواس
تیرا حسنؔ یہ رونا یونہی
چھوٹا نہ واں تغافل
گر عشق سے کچھ مجھ کو
وہ پیار اب رہا نہ ترا
نظروں میں اُس نے مجھ سے
سیر ہے تجھ سے مری جان، جدھر کو چلئے
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
نُصرَتُ المُلک بَہادُر ! مُجھے بتلا ،کہ مُجھے
دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)
شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )
کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
<<
1
...
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
...
140
>>