- Advertisement -

شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )

ایک اردو افسانہ از محمد زاہد

وہ روتی جا رہی تھی۔ روتے روتے میرے ساتھ لگ جاتی۔ اور زیادہ زور سے روتی۔ کچھ حوصلہ ہوتا تو پھرمجھ سے دور ہو جاتی۔ غصے سے بولنا شروع کر دیتی۔ اسے آج موقع ملا تھا کسی مرد پر اس رات کاغصہ نکالنے کا۔ وہ مسلسل بول رہی تھی۔ پھر وہ تھک کر سو گئی اور میں اپنے گھر آگیا۔

اگلے دن وہ کافی سنبھل چکی تھی۔

کچھ دنوں کے بعد میں نے اسے کہا، ”کل تیار رہنا، ہم لانگ ڈرائیو پر جا رہے ہیں۔ “

حیران ہو کر پوچھنے لگی ”کہاں؟“

”صبح بتاؤں گا۔

تم جلدی تیار ہو جانا، لمبا سفر ہے۔ “

”کہاں جانا ہے؟“

”تمہیں اس ما حول سے کچھ دیر کے لئے دور لے جا نا چاہتا ہوں۔ “

اگلے دن ہم منہ اندھیرے چل پڑے۔

پوچھنے لگی، ”ہم کہاں جا رہے ہیں؟“

”ڈیرہ غازی خاں۔ “

”ادھر کہاں؟“وہ پریشان ہو رہی تھی۔

”بتاتا ہوں۔ “میں نے کہنا شروع کیا۔

”انکل مجھے بہت پیار کرتے تھے کیونکہ انہیں پتا تھا کہ میں تمہارا بہت خیال رکھوں گا۔ فوت ہونے سے پہلے وہ مجھے ایک ایڈریس دے گئے اور کہا تھا کہ اُسے ایک مرتبہ ضرور مل لینا۔ “

”تو تم مجھے اس کے پاس لے کر جا رہے ہو۔ “ وہ خوفزدہ ہو گئی۔

میں نے اسے حوصلہ دیا، ”ڈاکٹر نور! دیکھو، اب تم سترہ اٹھارہ سال کی نوعمر لڑکی نہیں ہو۔ تم اعلیٰ تعلیم یافتہ آزاد عورت ہو۔

اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔

تم اس سے کیوں خوفزدہ ہو؟ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میری فون پر بات ہوئی تھی۔ وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتا ہے۔ میں نے اسے تمہارے بارے میں نہیں بتایا۔ ہم آج شام اسے ملیں گے۔ “

وہ بولی، ”میں اس سے ملنا نہیں چاہتی۔ “

”لیکن ہم حقیقت سے اغماض بھی نہیں کرسکتے۔ تم ابھی تک اس کے نکاح میں ہو۔ “میں نے اسے سمجھایا۔

میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں اس کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ میں یہ طوق بھی اپنی گردن سے اتا ر پھینکوں گی۔ وہ انسان نہیں جانور ہے۔ موذی جانور۔ اس وحشی درندے نے مجھے نوچ ڈالا تھا۔ “ وہ غصے سے چلانے لگی۔

”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔ ظلم تم پر ہوا اور اب سزا بھی تم ہی بھگت رہی ہو۔ کیوں؟“

یہ سن کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔

سورج ڈھل رہا تھا جب ہم زرعی فارم میں پہنچے۔ وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھا تھا۔

ژولیدہ مو، دزدیدہ کھنڈر نگاہیں، موٹی سی نا تراشیدہ مونچھیں، دو دن کی بڑھی ہوئی شیو، شلوار قمیض میں ملبوس بڑی سی میز کے اس پارکرسی پر ڈھیر تھا۔

وہ خالی خالی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے تعارف کروایا، ”ڈاکٹر نوریز۔ “

وہ چونک گیا۔ اور شرمندگی سے اپنی گردن جھکا لی۔ کافی دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ میں نورریز کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔

پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ آنکھیں صاف کرتے ہوئے بولی، ”مجھے طلاق چاہیے۔ “

اس نے پھر رونا شروع کردیا۔ کمرے میں اس کی ہچکیوں کی خاموش صدا گونج رہی تھی۔ درو دیوار پر ہتھوڑے برس رہے تھے۔ ندامت زدہ فضا بوجھل ہو کر فرش پر گرپڑی تھی۔

وہ مجہول سا اپنی ہی آگ میں سوزاں، کسی قُلّہ تنہا پر، خجالت زدہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔

پھر دراز کھولا۔ کاغذ پنسل نکالی اور لکھنا شروع کر دیا۔

جب ہم اٹھ کر چلنے لگے تو بولا، ”مجھے معاف کر دینا۔ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ آپ تو سنبھل گئیں

اور میں۔ ۔ ۔

اُس کی بعد۔ ۔ ۔

آج تک کسی سے نظریں نہیں ملا سکا۔ دو مرتبہ ماں نے میری شادی کی۔ دونوں کچھ دنوں کے بعد چھوڑ گئیں۔ اپنے مقدر کی ناکامی میں نے خوداپنے ہاتھوں سے لکھی تھی۔ اسی لئے اس دور دراز علاقہ میں سب سے الگ تھلگ، چھپ کر بیٹھا ہوں۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اور میرے لئے دعا کرنا۔ “

واپسی کا سفر بہت لمبا تھا۔ ساری رات سفر میں گذر گئی۔ اس کے آنسوؤں سے دھلے چہرے پر پورے دن اور رات کے سفر کی تھکاوٹ کہیں نظر نہیں آرہی تھے۔ جب ہم لاہور میں داخل ہوئے تو سورج طلوع ہو رہا تھا۔

ستمبر قریب الاختتام تھا۔ موسم سہانا اور خوشگوار۔ رات ہلکی ہلکی بارش بھی ہوتی رہی تھی۔ ٹھوکر پل کے اوپر پڑی کیاریوں میں اُگی بوگن ویلیا کی بیلیں پھولوں سے لدی ہوئی تھیں۔

میں نے گاڑی پل کے اوپر روک لی۔ آسمان پر بادل چھٹنا شروع ہو گئے تھے۔

”گاڑی کیوں روک لی؟“ اس نے پوچھا۔

مشرق کی طرف دیکھو! نیا سورج ابھر رہا ہے۔ ایک نیا منظر ہے جو کہ منظر سے نکل رہا ہے۔ ایک دن ہے کہ اندھیری رات کو شکست دے کر ابھر رہا ہے۔ جب سورج طلوع ہو جائے تو اندھیرے ردائے ابر میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ جب موافق ہوائیں چلتی ہیں تو یہ ابربھی برس کر گھل جاتے ہیں۔ آسماں صاف ہو جاتا ہے۔

دیکھو! ایک نیا دن شروع ہونے کو ہے۔

بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے اس نئے سورج کی گلابی کرنیں تمہارے رخ روشن کے گرد نور کا ایک ہالہ بنا رہی ہیں اور سفید ریشم کے کپڑوں میں ملبوس تم، سحر کے ساتھ، آسمان سے اتری ہوئی پری لگ رہی ہو۔

اب رنج والم، اضمحال، مایوسی، پژمردگی، آزردگی اوردل شکستگی کو اس پل سے نیچے پھینک دو یا آگے آنے والی نہر میں بہا دو۔ اور آو!دنیا کی رغبتوں سے کیف آگیں ہو جاؤ۔ “

اس دن کے بعد بھی ہماری ملاقاتیں جاری رہیں۔ اب وہ خوش رہتی۔ کھل کر ہنس بھی لیتی۔ شاید اس کو زندگی میں ہنسنا پہلی بار نصیب ہوا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ اتنا کھلکھلا کر ہنستی کہ اس کا سانس اکھڑ جاتا۔ وہ کھانسنا شروع کر دیتی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ کر مجھ کو کچھ سرت نہ رہتی اور میرا طائر روح بھی اس کی میٹھی سانسوں کے ساتھ ہی الجھ جاتا۔

تین ماہ گذر گئے۔ خوشی کے ایک ایسے ہی سہانے لمحے میں میں نے اسے دوبارہ پرو پوز کر دیا۔

وہ خاموش ہو گئی۔

کچھ دیر کے بعد بولی، ”ہم بہت اچھے دوست ہیں۔ کیا یہی کافی نہیں؟مجھے شادی کے بارے میں سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے۔ شاید میں اب اس قابل بھی نہیں رہی۔ “

ڈاکٹر نور، تم خود ڈاکٹر ہو، تمہیں پتا ہو نا چاہیے کہ یہ کوئی ایسا خاص مسئلہ نہیں۔ “ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

وہ کہنے لگی، ”لیکن میں بہت خوفزدہ ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس اہل ہی نہیں سمجھتی۔ “

”ہم اس مسئلے کو مل کر حل کر لیں گے۔ “میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

اس کا جسم کانپنا شروع ہو گیا۔ کہنے لگی”یہ ممکن نہیں۔ “

اس دن کے بعد میں نے جب بھی اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش کی وہ خوفزدہ ہو کر خاموش ہو جاتی۔ میں اس کی کسی بات سے مضطرب تھا اور نہ ہی میں نے استقلال چھوڑا۔ ایک دن میں نے بہت زور دیا تو کہنے لگی،

”مجھے لگتا ہے کہ میں تمہارے دل کی کسی آرزو کو بر لا سکوں گی اور نہ تمہارے ساتھ صحبت کو گرم کر سکوں گی۔ ہم اچھے دوست ہیں، ہم میاں بیوی نہیں بن سکتے۔ “

میں نے بھی حتمی فیصلہ دیتے ہوئے کہا، ”ہم اچھے دوست ہیں اور شادی کے بعد صرف دوست رہ کر بھی گذارا کر سکتے ہیں۔ میرا مقصد تمہاری شراب وصال پینا نہیں، تمہارے قرب سے اپنے آنگن کو مہکانا ہے۔ “

ہماری شادی ہو گئی۔

دن مہینے گذرتے گئے۔ میں اپنے وعدے پر قائم تھا۔

چھٹی کا دن تھا۔ ہم اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔ باہر دن روشن ہو چکا تھا۔ کھڑکی کھلی تھی۔ ماں اور گھر کی ملازمہ انگنائی میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ ماں کہہ رہی تھی، ”جب سے میرے بیٹے کی شادی ہوئی ہے روزانہ خدا کے حضور ثمرہ جاودانی کی طلب گار بن کر سر بسجود ہوتی ہوں۔ پتا نہیں وہ وقت کب آئے گا؟“ماسی بولی، ”مجھے تو آپ کی خواہش پوری ہوتے نہیں لگتی۔ “

”کیوں؟“ ماں حیران ہو کر بولی۔

ماسی کہنے لگی، ”مجھے تو لگتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی ایسا تعلق ہی نہیں۔ “

ماں غصے سے بولی، ”کیا بکواس کر رہی ہو؟ وہ تو ساری ساری رات ہنستے کھیلتے رہتے ہیں۔ “

ماسی بولی، ”کھیلتے ہیں یا تمہارا بیٹا دیواروں سے سر ٹکراتا رہتا ہے۔

میں ان کے کپڑے دھوتی ہوں۔ بیٹا تو ٹھیک ہے۔ بہو کی جانگھ کے کپڑوں پر میں نے کبھی کوئی نشان نہیں دیکھا۔“

ہم دونوں سن رہے تھے۔ نور نے شرمندگی سے سرہانے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا۔

اس دن کے بعد ماں نے اسے غصہ دکھانا شروع کر دیا۔ اب وہ بھی ڈیپریشن میں جانا شروع ہو گئی تھی۔

ایک دن کہنے لگی، ”تم دوسری شادی کر لو۔ مجھے چھوڑنا بھی پڑے تو چھوڑ دو۔ “

میں نے جواب دیا، ”یہ نہیں ہو سکتا۔

کیوں نہ ہم کسی گائناکالوجسٹ یاسائکیٹرسٹ سے رابطہ کریں؟“

دو تین ملاقاتیں ہم نے ذہنی امراض کے ماہر سے کیں۔

اس کا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دن کہنے لگی، ”یہ سب کچھ میرے بس میں نہیں۔ تم شادی کر لو، میں ہاسٹل چلی جاؤں گی۔ میری صرف ایک خواہش اور پوری کر دینا۔ جب تمہاری بیوی امید سے ہو تو اس کی ڈیلیوری میں کروں گی۔“

”کیسی عجیب خواہش ہے تمہاری؟“ میں چونک گیا۔

اس نے رونا شروع کر دیا۔ سر جھکا کر کہنے لگی،

”اپنے بچے کو سب سے پہلے میں اپنی گود میں کھلانا چاہتی ہوں۔ اور اس کو پہلا دودھ بھی میں اپنا پلاؤں گی۔ “

میں حیران ہو گیا، ”دودھ؟ تم ڈاکٹر ہو کر کیسی باتیں کر رہی ہو؟ “

ہچکیاں لیتے ہوئے کہنے لگی، ”میں بھی تو اس کی ماں ہونگی نا۔ میں دودھ کیوں نہیں پلا سکتی؟

جب ہم جسمانی تعلقات کے بغیر میاں بیوی ہو سکتے ہیں تو میں اسے بغیر دودھ کے دودھ نہیں پلا سکتی۔ “

میں اس کی محبت دیکھ کر لرز اٹھا۔ اس کی ماں بننے کی حسرت آنسو بن کر ٹپک رہی تھی۔

اگلے دن ہم ماہر امراض نسواں کے پاس چلے گئے۔

گائناکالوجسٹ نے اسے مکمل طور پر صحیح قرار دے دیا۔ خوف ختم کرنے کے لئے اس نے بیہوشی کے زیر اثر Dilatation کا مشورہ بھی دیا۔

رات کو کہنے لگی، ”میرا خاوند بھی ڈاکٹر ہے۔ میں کسی اور ڈاکٹر کے پاس نہیں جاؤں گی۔ جب میں ٹھیک ہوں تو اپنے خاوند سے کیوں دور رہوں۔ میں مر بھی جاؤں تو آج تمہیں نہیں روکوں گی۔ “

اب وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی