آپ کا سلاماختصاریئےاردو تحاریر

اسکریبل آن لائن اجنبی کے ساتھ

تنویر انجم کی ایک اردو تحریر

جب میں ایک پرانے دوست کو ایک کھیل کے لیے ڈھونڈ رہی تھی مجھے ایک اجنبی مل گیا اور بار بار دعوت دی ایک کھیل شروع کرنے کی

اس کی باری پہلے آئی اوراس نے شروع کیا کچھ بے ہنگم انداز میں ایک صرف سہ حرفی لفظ ”MAN” سے
میرے پاس بھی کچھ اچھے حروف نہ آئے اور اس کے لفظ کو بڑھا کر میں نے کر دیا "WOMAN”

اس کی قسمت نے ساتھ دیا "M” کے ساتھ لگا کر اس نے بنا لیا "MARRIAGE” اور اپنے ساتوں حروف استعمال کرنے پر اسے پچاس اضافی نمبر ملے

میرے پاس "S” تھا مگر "MARRIAGE” کو "MARRIAGES” بنانے کی جگہ نہیں تھی اس لیے میں نے "R” کو استعمال کرتے ہوے بنایا "REASON”

اس نے "S” کے ساتھ لکھا "SEX” اور ٹرپل لیٹر پر "X” سے حاصل کر لیےپھر بہت سارے نمبر
میں نے بھی "X” کو استعمال کیا اور لکھا "EXIT”

قسمت سے اسے پھر "S” ملا اور میرے لفظ کے آگے "S” لگا کر اس نے مزید بنایا "SLUT”

مجھے یہ لفظ اچھا نہیں لگا اور میں نے "U” سے بنایا "UNFIT”

اس نے میرے "F” کے چار نمبر زائد حاصل کیے جب اس نے "F” سے بنایا وہ چار حرفی لفظ جو ہم شریفانہ گفتگو میں استعمال نہیں کرتے

میں نے بھی جواباً "C” سے لکھا ایک ایسا ہی لفظ جس میں "N” تھا اور "T”

اس کے پاس آیا پھر بہت کارآمد "S” جس سے اس نے میرے لفظ کی جمع بنا کر اسے مزید بے ہودہ بنا دیا اور مزید لکھ دیا ایک سات حرفی لفظ "LUSTFUL” اور دوسری بار حاصل کرلیے پچاس اضافی نمبر

میں کھیل میں بری طرح ہار رہی تھی سو میں نے فیصلہ کیا اپنے تمام بے کار حروف بدل دینے کا جس کے لیے مجھے اپنی باری چھوڑنا پڑی

اس نے پھر لکھا "LOSER” اور استعمال کر لیا آخری "S”

میں نے بلینک ٹائل کو "S” کے طور پر استعمال کرتے ہوے "LOSER” کو بنایا "LOSERS” اور لکھا "STUPID”

اسے جیسے ہی "D” ملا اس نےلکھ دیا "DIVORCED” اور ایک بار پھر حاصل کرلیے پچاس اضافی نمبر

میرے لیے کھیل میں اب کچھ باقی نہیں بچا تھا پھر بھی ہار مان لینا مجھے اچھا نہیں لگا۔ کھیل ادھورا چھوڑ کر میں نے اسے پیغام لکھ دیا: ’’ہم اب اجنبی نہیں رہے۔ ہم پھر ملیں گے اور کھیل کو یہیں سے شروع کریں گے۔‘‘

تنویر انجم

تنویر انجم

تنویر انجم پاکستان میں اردو کی ممتاز شاعرات میں سے ہیں۔ وہ ۱۹۵۶ میں کراچی میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۷۴ سے شاعری کا آغاز کیا۔ انہوں نے نثری نظم کی شاعرہ کی حیثیت سے ایک نمایاں مقام بنایا ہے ۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ ان دیکھی لہریں (۱۹۸۲)، سفر اور قید میں نظمیں (۱۹۹۲)، طوفانی بارشوں میں رقصاں ستارے (۱۹۹۷)، زندگی میرے پیروں سے لپٹ جاےٗ گی (۲۰۱۰)، نئے نام کی محبت (۲۰۱۳)، حاشیوں میں رنگ (۲۰۱۶) اورفریم سے باہر (۲۰۱۶) ۔ ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ سروبرگ آرزو۲۰۰۱ میں شایع ہوا۔ ان کی منتخب نظموں کا ایک مجموعہ Fireworks on a Windowpane انگریزی تراجم کے ساتھ ۲۰۱۴ میں منظر عام پر آیا۔ ۲۰۲۰ میں ان کے سات مجموعوں سے نظموں کا ایک انتخاب "نئی زبان کے حروف" کے نام سے شائع ہوا جس کا انڈین ایڈیشن ۲۰۲۳ میں شائع ہوا۔ ان کی نظموں کے تراجم انگریزی اور دنیا کی دیگر زبانوں میں شائع ہوتے رہے ہیں اور اینتھولوجیز میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ عالمی ادب کے انگریزی سے اردو میں تراجم بھی کرتی رہتی ہیں اور تنقیدی مضامین بھی لکھتی ہیں۔ ان کے تراجم میں بہت سی نظمیں اور افسانے، ایتل عدنان کا لبنانی ناول ست میری روز، دس لاکھ پرندے کے نام سے، اور اسٹینلے وولپرٹ کی قائد اعظم کی سوانح عمری جناح آف پاکستان بھی شامل ہیں۔ خواتین کی عالمی شاعری کے تراجم پر مشتمل ان کی کتاب زیرِطبع ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ بھی زیراشاعت ہے۔ تنویر انجم نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اورتدریس سے وابستہ ہوئیں۔ ۱۹۸۵ سے ۱۹۹۱ کا زمانہ انہوں نے امریکہ میں اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن میں گزارا اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کے علاوہ وہاں تدریسی فرائض بھی انجام دیے۔ امریکی ادارے امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کی جانب سے ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۶ میں انہیں کئی امریکی یونیورسٹیوں میں لیکچرز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ انہیں ۲۰۰۰ میں حکومت پاکستان کی جانب سے اعزاز فضیلت اور ۲۰۲۲ میں ان کی شاعری کی کتاب "نئی زبان کے حروف" کو انفاق فاونڈیشن اور پاکستان ادب فیسٹیول کی جانب سے سال کی بہترین کتاب کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا و طالبات کو انگریزی ادب پڑھاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button