اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر حسن

چھوٹا نہ واں تغافل

میر حسن کی اردو غزل

چھوٹا نہ واں تغافل اُس اپنے مہرباں کا
اور کام کر چکا یاں یہ اضطراب جاں کا

اُٹھتے ہی دل جگر میں کیا آگ سی لگا دی
خانہ خراب ہووے اس نالہ و فغاں کا

وے دن گئے جو گلشن تھا بود و باش اپنا
اب تو قفس میں بھولے نقشہ بھی گلستاں کا

سامان لے چلا ہے اندوہ کا یہیں سے
کیا جانیے ارادہ دل نے کیا کہاں کا

جانا تو ہم نے چھوڑا پر کیا کریں حسن ہاے
چھُٹتا نہیں ہے دل سے ہرگز خیال واں کا

میر حسن

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button