اردو نظمسرفراز آرششعر و شاعری

ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا

آرش کی ایک اردو نظم

ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا
اور پھر ہم زمانے میں تحلیل ہوتے گئے
تم بھی تم نہ رہی
میں بھی میں نہ رہا
وقت کی رو نے ہم سے ہمارا وہ سب لے لیا
جو ہمارا تھا بس
اور ہمیں وہ دیا
جس نے بازار پیدا کیے
باٹ کا پہلا پتھر تمہارے لبوں کی ہنسی اور آنکھوں کے نم کی اسیری میں پیدا ہوا
بھاؤ اور بولیاں
خون کی ہولیاں
مخملی چادریں
بے ردائی کا ڈر
عشق کے نام پر کاروبار ہوس
یہ تمہارے مرے ارتقاء کے نہیں
منڈیوں کی تجارت کے پیمانے ہیں
ہم تو آزاد تھے
خیر اور شر کے چنگل میں پھنسنے سے پہلے
کہاں جسم تھا؟
اور کیا روح تھی ؟
ڈوبتے دل کا احساس پہلی دفعہ تب ہوا جب تمہیں کاروکاری بنانے کا چرچا ہوا
اور نادیدہ امداد کی آرزو تب ہوئی
جب کسی کھیت سے تری وحشت زدہ چیخ سے میرے بیٹھے کبوتر اڑے
آج دن ہے ترا
میری ہم سر ! مجھے تیرے دن پر تجھے اور کیا کہنا ہے؟
اور جو کہنا ہے وہ سب میں کیسے کہوں ؟
کس طرح تیری صدیوں پہ لمحوں کا مرہم دھروں؟

آرش

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button