آپ کا سلاماردو غزلیاتدانش نقویشعر و شاعری

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا

دانش نقوی کی ایک اردو غزل

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
بے موسم سرسوں پھولی تھی کھیتوں کا منہ پیلا تھا

سمہے سہمے دن تھے کوئی خوف تھا میرے سینے میں
پچھلے سال اسی موسم میں تیرا ماتھا چوما تھا

پیاس کی حرمت بھول رہے ہو لیکن اتنا یاد رہے
پہلے میرے لب سوکھے تھے بعد میں دریا سوکھا تھا

لگتا ہے کہ میرے بعد بہت سے لوگ یہاں آئے
پچھلی بار میں جب آیا تھا رستہ اونچا نیچا تھا

تم نے یونہی جلدی کی ہے اس سے رشتہ توڑ لیا
ویسے چاہے جیسا ہوگا، دانش بندہ اچھا تھا

دانش نقوی

post bar salamurdu

دانش نقوی

دانش نقوی آبائی گھر گڑھ مہاراجہ حاضر سکونت خانیوال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button