اردو غزلیاتجون ایلیاشعر و شاعری

ایک سایہ مرا مسیحا تھا

جون ایلیا کی ایک اردو غزل

ایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا کیا تھا

وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا

تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا

جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا

بات تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا

اپنے معیار تک نہ پہنچا میں
مجھ کو خود پر بڑا بھروسہ تھا

جسم کی صاف گوئی کے با وصف
روح نے کتنا جھوٹ بولا تھا

 

جون ایلیا

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button