اردو غزلیاتجون ایلیاشعر و شاعری

بے قراری سی بے قراری ہے

جون ایلیا کی ایک غزل

بے قراری سی بے قراری ہے
وصل ہے اور فراق طاری ہے

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر
اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے

بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے

آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن
سانس جو چل رہی ہے آری ہے

اس سے کہیو کہ دل کی گلیوں میں
رات دن تیری انتظاری ہے

ہجر ہو یا وصال ہو کچھ ہو
ہم ہیں اور اس کی یادگاری ہے

اک مہک سمت دل سے آئی تھی
میں یہ سمجھا تری سواری ہے

حادثوں کا حساب ہے اپنا
ورنہ ہر آن سب کی باری ہے

خوش رہے تو کہ زندگی اپنی
عمر بھر کی امیدواری ہے

 

جون ایلیا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button