- Advertisement -

Widaii Bosa

A Ghazal By Iftikhar Shahid

وداعی بوسہ جبیں پہ رقم کیا جائے
پھر اس کے بعد بچھڑنے کا غم کیا جائے

میں بار بار جو سوتے میں چونک پڑتا ہوں
خیال و خواب کا آنکھوں پہ دم کیا جائے

ندی کی تیز روانی سے پوچھنا یارو
کنارِ آب کو اشکوں سے نم کیا جائے!!!

ابھی بہار کے آنے میں وقت باقی ہے
ابھی تو دشت میں تھوڑا سا رَم کیا جائے

یہاں پہ قیس نے پہلا پڑاو ڈالا تھا
یہاں پہ لازمی گردن کو خم کیا جائے

ذرا سی دیر اندھیروں کا مان رکھتے ہیں
ذرا سی دیر چراغوں کو کم کیا جائے

ہمارے ھاتھ کٹانے سے کچھ نہیں ہو گا
ہماری سوچ کا سر ہی قلم کیا جائے

یہ اشک ہیں تو انہیں پی کے دیکھئے صاحب
یہ آگ ہے تو اسے دل میں ضم کیا جائے

ابھی تو آنکھ گلابی ہوئی نہیں شاھد
ابھی تو ایک دو پیالہ بہم کیا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
A Funny Ghazal By Inayat Khan