Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
حملہ ہوا تھا
استاد مرحوم
ضمیر واحد متبسم
ممتاز مفتی کی کتاب "غبارے” سے
چائے- پانی
بسم اللہ ۔۔۔اللہ اکبر
سوری رانگ نمبر
عیادت کرنامنع ہے
آب گم سے
آبِ گُم – شہر دو قصہ
چراغ تلے
اللہ میاں کے مہمان
کبوتر
اُلّو ہمارے بھائی ہیں
اعصاب پر گھوڑا ہے سوار
ایسےایسے لوگ
فیوڈل فینٹسی
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا
کس کی گھات میں
کیا روپ دوستی کا
سفر کی موج میں تھے
سیرِ سرما
ریلوے اسٹیشن پر
ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے
آج تھی میرے مقدر میں
دل نے ایک ایک دکھ سہا، تنہا
پنواڑی
سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
پریشر ککر، دھواں اور خواب
چھپکلی بے دیوار
بڑھی جو حد سے
نژادِ نَو
منٹو
ضمیر راز داں ہے اور ، میں ہوں
دکھ کا ہر بہروپ انوکھا
قریب دل ، خروشِ صد جہاں ہم
توسیعِ شہر
اپنے دل کی کھوج میں
التماس
برس گیا بہ خراباتِ آرزُو، تِرا غم
جنونِ عشق
دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے
کیا سوچتے ہو
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے
اِک عُمر دِل کی گھات سے تُجھ پر نِگاہ کی
کون دیکھے گا
تِرے فرقِ ناز پہ تاج ہے
آٹوگراف
یہ دنیا
دل دریا سمندروں ڈونگھے
دن کٹ رہے ہیں
اُمّیدِ دیدِ دوست کی
سازِ فقیرانہ
کہانی ایک ملک کی
چاندنی میں، سایہ ہائے کاخ و کُو
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر
زندگی اے زندگی
جب اک چراغ راہگزار کی کرن پڑے
ہر وقت فکرِمرگِ غریبانہ چاہیئے
روش روش پہ ہیں
اس اپنی کرن کو آتی ہوئی
اب یہ مسافت کیسے طے ہو
ابد کے سمندر کی
چراغ کر کے کشید اُس بدن کا سایہ بنا
راجندر بیدی کے اسلوب
اردو لشکری زبان؟
دل جو ہے آگ لگا دوں
بے انتہائی شیوہ ہمارا
<<
1
...
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
...
140
>>