اردو غزلیاتشعر و شاعریمجید امجد

کیا روپ دوستی کا

مجید امجد کی ایک اردو غزل

کیا روپ دوستی کا؟ کیا رنگ دشمنی کا؟
کوئی نہیں جہاں میں کوئی نہیں کسی کا

اک تنکا آشیانہ، اک راگنی اثاثہ
اک موسمِ بہاراں، مہمان دو گھڑی کا

آخر کوئی کنارا اس سیلِ بےکراں کا؟
آخر کوئی مداوا اس دردِ زندگی کا؟

میری سیہ شبی نے اک عمرآرزو کی
لرزے کبھی افق پر تاگا سا روشنی کا

شاید اِدھر سے گزرے پھر بھی ترا سفینہ
بیٹھا ہوا ہوں ساحل پر نے بلب کبھی کا

اس التفات پر ہوں لاکھ التفات قرباں
مجھ سے کبھی نہ پھیرا رخ تو نے بےرخی کا

اب میری زندگی میں آنسو ہیں اور نہ آہیں
لیکن یہ ایک میٹھا میٹھا سا روگ جی کا

او مسکراتے تارو! او کھلکھلاتے پھولو
کوئی علاج میری آشفتہ خاطری کا

 

مجید امجد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button