A True Salam To Urdu Literature

Hamla Houa Tha

An Urdu Column By Nasir Jafri

حملہ ہوا تھا

سانحہ پی آئی سی کی دعائیہ تقریب کے بعد گھر کے لیے نکلا رکشہ والا پوچھتا ہے کیا وکیل آئے تھے میں نے کہا نہیں وہ کہتا ہے اگر وہ آئیں بھی تو اانھیں کبھی معاف نہ کرنا کیونکہ میں حملہ کے وقت وہاں موجود تھا میری آنکھوں کے سامنے وہ سب کچھ ہو رہا تھا جو بچپن میں میری دادی سنایا کرتی تھی تقسیم ہندوستان پر جو سکھ بلوائیوں نے کیا تھا وہ برچھیوں کے ساتھ گھروں میں گھستے جوان تو درکنار بچے بوڑھے اور عورتیں بھی ان کے قہر سے محفوظ نہیں ہوتی تھیں ہر گھر میں کہرام مچ جاتا لاشیں بکھری ہوئی ہوتی اور مارنے والے جشن منا رہے ہوتے یہاں بھی یہی ہوا ہے انسانوں کے روپ میں ایک جتھا ڈنڈے اسلحے کے ساتھ انسانوں پہ چڑھ دوڑا جن سے وہ بھی محفوظ نہیں تھےجو پہلے ہی بستر مرگ پہ تھے مرنے والوں کو مارنا کہاں کا شیوہ یےوہ یہ سب بتاتے ہوئے روہے جا رہا تھااس کے آنسو اس کی سچائی کی دلیل تھے ان باتوں نے مجھےرات بھر سونے نہیں دیا پتہ نہیں تاریخ کے کیا کیا اوراق میرے دماغ پہ دستک دیے جا رہے تھے دنیا میں ظلم کے کیا کیا واقعات ہوئے جن کو آنے والے بھولتے گئے نام نہاد اہل علم تو یہاں تک کہنے لگ گئے ہیں کہ یزید بیگناہ تھا ملا عمر ہیرو تھا کشمیر فلسطین عراق شام افغانستان میانمار اور یمن میں ہونے والے ظلم ان ممالک کے داخلی معاملات ہیں امریکہ اسرائیل انڈیا اور یورپی ممالک سب سے بڑےانسان دوست ہیں اہل علم کے پاس بہت دلیلیں ہوتی ہیں وکلا طبقہ کی روزی روٹی کا انحصار ہی ان دلیلوں پہ ہے کیونکہ جھوٹ کو سج ثابت کرنا ان کے اس فن کا حصہ ہے مجھے یہ ڈر ہے کہ اس فن میں یدطولی! رکھنے والے یہ بات بھی ثابت کر لیں گے کہ پی آئی سی پہ حملہ ہوا ہی نہیں تھا ڈاکٹر علی شریعتی نے کیا خوب کہا ہے جو شہید ہوئے انھوں نے کار حسینی انجام جو زندہ ہیں وہ کار زینبی انجام دیں ورنہ وہ یزیدی ہیں آئیے ہم بھی کار زینبیہ انجام دیتے ہوئے ظلم کو ظلم کہیں اور ہر ظالم کے سامنے ڈٹ جائیں بیشک وہ ہم میں ہی سے کیوں نہ ہو

ناصر جعفری

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Funny Urdu Writing by Ibn e Insha