اردو غزلیاتشعر و شاعریمجید امجد

اپنے دل کی کھوج میں

مجید امجد کی ایک اردو غزل

اپنے دل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پر ڈھو گئے کیا کیا لوگ

سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ
بج گئی کیا کیا بانسری رو گئے کیا کیا لوگ

میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار
صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ

گٹھڑی کال رین کی سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ

میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول
سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ

 

مجید امجد​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button