اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

پنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

پنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں
تصویر کا رُخ ایک ہی رہتا ہے سامنے

سر پھوڑتا کہ دل کا سکوں دیکھتا کوئی
دیوار سامنے کبھی سایہ ہے سامنے

ہے موت کا خیال بھی کس درجہ دلخراش
اور صورت حیات بھی کیا کیا ہے سامنے

یہ خار ہے کہ تیرِ غم زندگی کوئی
یہ پھول ہے کہ اپنی تمنا ہے سامنے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button