اردو غزلیاتحسن عباس رضاشعر و شاعری

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

ایک اردو غزل از حسن عباس رضا

کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

یہ اپنا رنج ہے اور رنج کا چرچا نہیں کرتے

جدائی کی رتوں میں صورتیں دھندلانے لگتی ہیں

سو ایسے موسموں میں آئنہ دیکھا نہیں کرتے

زیادہ سے زیادہ دل بچھا دیتے ہیں رستے میں

مگر جس نے بچھڑنا ہو اسے روکا نہیں کرتے

ہمیشہ اک مسافت گھومتی رہتی ہے پاؤں میں

سفر کے بعد بھی کچھ لوگ گھر پہنچا نہیں کرتے

تنی رسی پہ دریا پار اترنا ہی مقدر ہو

تو پھر سینوں میں غرقابی کا ڈر رکھا نہیں کرتے

ہمیں رسوا کیا اس نیند میں چلنے کی عادت نے

وگرنہ جاگتے میں ہم کبھی ایسا نہیں کرتے

حسنؔ جب لڑکھڑا کر اپنے ہی پاؤں پہ گرنا ہو

تو پھر ایڑی پہ اتنی دیر تک گھوما نہیں کرتے

حسن عباس رضا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button