آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

من بگھیا ما ساجن ناہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

من بگھیا ما ساجن ناہیں راس نہ موہے رنگ
دیوالی کے دیپ جلے ہوں یا ہولی کے رنگ
۔
جب پیتم سے نینا لاگے مانگ بھرا سندور
ورنہ پھیکے پڑ جاتے تھے اس سے پہلے رنگ
.
اک کمرے میں عمر گزاری پر سوچیں متضاد
دل ڈھونڈے احساس کے رشتے آنکھ تلاشے رنگ
.
تو موجود ہے ہر ذرّے میں ہر شے تیرا روپ
وارث ، بلّھا ، نانک ، باہو ، مولا تیرے رنگ
.
رنگ نہیں اجمیری مرشد کیسے نظر کرے
جا اجمیر تو رنگ لہا کے دل دے بوہے رنگ
.
آ جا ساجن بیساکھی میں آئے سب کے پیت
میلیں میلی پوشاکیں اور کالے کالے رنگ
.
رانجھن آیا ہے بیلے میں ست رنگی ہے شام
پورب۔ پچّھم، اتر، دکّشن ہر سو پھیلے رنگ
.
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ہر دم نال پکار
کلمہ ورد بنا لے ساجدؔ لگ جاویں گے رنگ
۔
لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button