آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتناصر زملؔ

در بدر ہو کے جو در سوچ لیا

ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل

در بدر ہو کے جو در سوچ لیا
ہم نے اب ترکِ سفر سوچ لیا

سوچ لے تو بھی کہاں رکنا ہے
یا سفر تابہ سحر سوچ لیا ؟

اب نہ وحشت کے ہیں آثار کہیں
کس طرح ہوگی بسر سوچ لیا

گر میسر ہیں تو سستا نہ سمجھ
پھر نہ آئیں گے اگر سوچ لیا

تجھ سے امّید کوئی کیا رکھے
جس نے انجام کا ڈر سوچ لیا

خدا نے کھولی اذیت کی دکاں
پھر چلانے کو بشر سوچ لیا

 

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ قلمی نام : زملؔ ضلع : وہاڑی ناصر زملؔ پاکستان ضلع وہاڑی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر ہیں ۔ انکا پہلا مجموعہ شاعری جنوری 2024 کو شائع ہوا جس کا نام "سحرِ بیاں" ہے جو " سرائے اُردو پبلیکیشن سیالکوٹ" پر دستیاب ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button