اردو غزلیاتشعر و شاعریمجید امجد

یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر

مجید امجد کی ایک اردو غزل

یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

بڑے شوق سے پی مگر پی کے مت گر
ہتھیلی پہ ہے تیری ساغر سنبھل جا

جہاں حق کی قسمت ہے سولی کا تختہ
یہاں جھوٹ ہے زیبِ منبر سنبھل جا

قیامت کہاں کی، جزا کیا، سزا کیا
ہے ہر سانس اک تازہ محشر سنبھل جا

وہ طوفاں نے پر خوں جبڑوں کو کھولا
وہ بدلے ہواؤں کے تیور سنبھل جا

نہیں اس خرابات میں اذنِ لغزش
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا

 

مجید امجد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button