اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے

تا حّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں

پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے

میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت

زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button