Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
نصاب دل کا حسن کی کتاب سے نکل گیا
سراب
ستم سکھلائے گا
شرح فراق مدح لب
چاند نکلے کسی جانب
کس شہر نہ شہرہ ہوا
گو سب کو بہم ساغر و بادہ
کچھ پہلے ان آنکھوں آگے
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار
وہ بتوں نے ڈالے ہیں
آپکی یاد آتی رہی
حسن مرہون جوش بادۂ ناز
جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں
احساس خود گرفتہ سے جاں پر بنی رہی
<<
1
...
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
...
709
>>