Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
کمپی کاری کا قاتل
عالم بخش اور کالا ریچھ
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
ماموندر کی آدم خور
کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں
راما پرم کا آدم خور
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں
گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں
حال نہیں کچھ کھلتا میرا کون ہوں کیا ہوں کیسا ہوں
یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
<<
1
...
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
...
709
>>