Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
نُصرَتُ المُلک بَہادُر ! مُجھے بتلا ،کہ مُجھے
دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
<<
1
...
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
...
701
>>