Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)
شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )
کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
<<
1
...
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
...
701
>>