Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
وبا اور پہلی محبت
کوکھ جلی
ایک باپ بکاؤ ہے
وبا ۲۰۲۰
"کرونا” حقائق اور جھوٹ
وحید احمد
ایک ادنٰی سی استدعا
گرہن
وبا کی آفت اور شیخ حرم کے غمزے
زندگی کی آندھی میں ذہن کا شجر تنہا
ذرا موسم تو بدلا ہے
جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں
آکاش پہ بادل چھائے تھے
چاندنی رات میں بلاؤں تجھے
بند ہتھیلی میں ہیں سب
کٹی پتنگ ہوں میں اور بے سہارا ہوں
مجھے کچھ عرض کرنا ہے
گزارش
تکمیل
شعور نوحہ کناں ہوا ہے
مان جاؤ ناں
وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ
اپریل فول اور اس کی حقیقت
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
کورونا وائرس اور پاکستان
پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو
وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
ہم کہ منت کشِ صیاد نہیں ہونے کے
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
محبت میں دَغا دوں گا
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
معلوم جو ھوتا ھميں انجام محبت
مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا
جگ میں آتا ہے ہر بشر تنہا
میری راۓ میں
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
زہر آلود ہے ہر سانس، نہیں لے سکتے
کبھی ٹھہَر کے سنی ہے بہاو کی آواز ؟
سَــمَے نہ دیکھ ‘ ابھی گفتگو چلی ہی تو ہے
نہیں ہے وَجہ ضروری کہ جب ہو تب مر جائیں
جدھر کھڑا تھا، نہیں ہوں اُدھر، کدھر گیا میں؟
ایک تاریخِ مقرّر پہ تو ہر ماہ مِلے
تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں
مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں
بی ٹی نامہ
زیست میں غم ہیں ہم سفر پھر بھی
خوشی کی ملی یہ سزا رفتہ رفتہ
ہے نہیں کوئی ناخدا دل کا
دامن تیرا مجھ سے چھوٹا ملنے کے حالات نہیں
اے غم دل یہ ماجرا کیا ہے
یاد
خوبصورتی
کرنل محمدخان
یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا
وہ خواب دکھاتے ہے ساکار نہیں کرتے
وفا کی راہ میں ایسے کمال کرتی ہوں
تیر نظروں کے ہم پہ چلاتے رہو
یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا
یہ راستے میں جو شب
شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے
زندگی سفر میں ہے اور اس کے پاؤں میں
اشک گرنے کی صدا آئی ہے
شکستہ تن ، برہنہ سر جو ٹھہرے
<<
1
...
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
...
140
>>