- Advertisement -

گرہن

ایک افسانہ از راجندر سنگھ بیدی

گرہن

روپو، شِبو، کتھّو اور منّا۔۔۔ ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کو چار بچے دیے تھے اور پانچواں چند ہی مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے پڑنے لگے۔ گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں اور گوشت ان میں پچک گیا۔ وہ ہولی، جسے پہلے پہل میّا پیار سے چاند رانی کہہ کر پکارا کرتی تھی اور جس کی صحت اور سُندرتا کا رسیلا حاسد تھا، گرے ہوئے پتے کی طرح زرد اور پژمردہ ہو چکی تھی۔

آج رات چاند گرہن تھا۔ سرِ شام چاند،گرہن کے زمرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ ہولی کو اجازت نہ تھی کہ وہ کوئی کپڑا پھاڑ سکے۔ پیٹ میں بچے کے کان پھٹ جائیں گے۔ وہ سی نہ سکتی تھی۔ منھ سلا بچہّ پیدا ہو گا۔ اپنے میکے خط نہ لکھ سکتی تھی۔ اس کے ٹیڑھے میڑھے حروف بچّے کے چہرے پر لکھے جائیں گے۔ اور اپنے میکے خط لکھنے کا اسے بڑا چاؤ تھا۔

میکے کا نام آتے ہی اس کا تمام جسم ایک نا معلوم جذبہ سے کانپ اٹھتا۔ وہ میکے تھی تو اسے سسرال کا کتنا چاؤ تھا۔ لیکن اب وہ سسرال سے اتنی سیر ہو چکی تھی کہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ اس بات کا اس نے کئی مرتبہ تہیّہ بھی کیا لیکن ہر دفعہ ناکام رہی۔ اس کے میکے اساڑھی گاؤں سے پچیس میل کے فاصلہ پر تھے۔ سمندر کے کنارے ہر پھول بندر پر شام کے وقت سٹیمر لانچ مل جاتا تھا اور ساحل کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹہ کی مسافت کے بعد اس کے میکے گاؤں کے بڑے مندر کے زنگ خوردہ کلس دکھائی دینے لگتے۔

آج شام ہونے سے پہلے روٹی، چوکا برتن کے کام سے فارغ ہونا تھا۔ میّا کہتی تھی گرہن سے پہلے روٹی وغیرہ کھا لینی چاہیے، وگرنہ ہر حرکت پیٹ میں بچے کے جسم و تقدیر پر اثرانداز ہوتی ہے۔ گویا وہ بد زیب، فراخ نتھنوں والی مٹیلی میّا اپنی بہو حمیدہ بانو کے پیٹ سے کسی اکبر اعظم کی متوقع ہے۔ چار بچوں، تین مردوں، دو عورتوں، چار بھینسوں پر مشتمل بڑا کنبہ اور اکیلی ہولی۔۔۔

دوپہر تک تو ہولی برتنوں کا انبار صاف کرتی رہی۔ پھر جانوروں کے لیے بنولے، کھلی اور چنے بھگونے چلی، حتیٰ کہ اس کے کولھے درد سے پھٹنے لگے اور بغاوت پسند بچہ پیٹ میں اپنی بے بضاعت مگر ہولی کو تڑپا دینے والی حرکتوں سے احتجاج کرنے لگا۔ ہولی شکست کے احساس سے چوکی پر بیٹھ گئی۔ لیکن وہ بہت دیر تک چوکی یا فرش پر بیٹھنے کے قابل نہ تھی اور پھر میّا کے خیال کے مطابق چوڑی چکلی چوکی پر بہت دیر بیٹھنے سے بچے کا سر چپٹا ہو جاتا ہے۔ مونڈھا ہو تو اچھا ہے۔ کبھی کبھی ہولی میّا اور کائستھوں کی آنکھ بچا کر کھاٹ پر سیدھی پڑ جاتی اور ایک شکم پُر کتیا کی طرح ٹانگوں کو اچھی طرح سے پھیلا کر جمائی لیتی اور پھر اسی وقت کانپتے ہوئے ہاتھ سے اپنے ننھے سے دوزخ کو سہلانے لگتی۔

یہ خیال کرنے سے کہ وہ سیتل کی بیٹی ہے، وہ اپنے آپ کو روک نہ سکتی تھی۔ سیتل سارنگ دیوگرام کا ایک متمول ساہوکار تھا اور سارنگ دیوگرام کے نواح کے بیس گاؤوں کے کسان اس سے بیاج پر روپیہ لیتے تھے۔ اس کے باوجود اسے کائستھوں کے ہاں ذلیل کیا جاتا تھا۔ ہولی کے ساتھ کتّوں سے بھی بُرا سلوک ہوتا تھا۔ کائستھوں کو تو بچے چاہئیں۔ ہولی جہنم میں جائے۔ گویا سارے گجرات میں یہ کائستھ ہی کل ودھود (کل کو بڑھانے والی۔۔۔بہو) کا صحیح مطلب سمجھتے تھے۔

ہر سال ڈیڑھ سال کے بعد وہ ایک نیا کیڑا گھر میں رینگتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتے تھےاور بچے کی وجہ سے کھایا پیا ہولی کے جسم پر اثرانداز نہیں ہوتا تھا۔ شاید اسے روٹی بھی اسی لیے دی جاتی تھی کہ پیٹ میں بچہ مانگتا ہے اور اسی لیے اسے حمل کے شروع چاٹ اور اب پھل آزادانہ دیے جاتے تھے۔

’’دیور ہے تو وہ الگ پیٹ لیتا ہے‘‘ ہولی سوچتی تھی ’’اور ساس کے کوسنے مار پیٹ سے کہیں برے ہیں ،اور بڑے کائستھ جب ڈانٹنے لگتے ہیں تو پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے۔ ان سب کو بھلا میری جان لینے کا کیا حق ہے؟ رسیلا کی بات تو دوسری ہے۔ شاستروں نے اسے پرماتما کا درجہ دیا ہے۔ وہ جس چھُری سے مارے اس چھُری کا بھلا! لیکن کیا شاستر کسی عورت نے بنائے ہیں؟ اور میّا کی تو بات ہی علاحدہ ہے۔ شاستر کسی عورت نے لکھے ہوتے تو وہ اپنی ہم جنس پر اس سے بھی زیادہ پابندیاں عائد کرتی۔‘‘

راہو اپنے نئے بھیس میں نہایت اطمینان سے امرت پی رہا تھا۔ چاند اور سورج نے وشنو مہاراج کو اس کی اطلاع دی اور بھگوان نے سدرشن سے راہو کے دو ٹکڑے کر دیے۔اس کا سر اور دھڑ دونوں آسمان پر جاکر راہو اور کیتو بن گئے ۔ سورج اور چاند دونوں ان کے مقروض ہیں۔ اب وہ ہر سال دو مرتبہ چاند اور سورج سے بدلہ لیتے ہیں اور ہولی سوچتی تھی۔ بھگوان کے کھیل بھی نیارے ہیں۔ اور راہو کی شکل کیسی عجیب ہے۔ ایک کالا سا راکشس، شیر پر چڑھا ہوا دیکھ کر کتنا ڈر آتا ہے۔ رسیلا بھی تو شکل سے راہو ہی دکھائی دیتا ہے۔ مُنّا کی پیدائش پر ابھی چالیسواں بھی نہ نہائی تھی تو آ موجود ہوا۔ کیا میں نے بھی اس کا قرضہ دینا ہے؟

اس وقت ہولی کے کانوں میں ماں بیٹے کے آنے کی بھنک پڑی۔ ہولی نے دونوں ہاتھوں سے پیٹ کو سنبھالا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور جلدی سے توے کو دھیمی دھیمی آنچ پر رکھ دیا۔ اب اس میں جھُکنے کی تاب نہ تھی کہ پھونکیں مار کر آگ جلا سکے۔ اس نے کوشش بھی کی لیکن اس کی آنکھیں پھٹ کر باہر آنے لگیں۔

رسیلا ایک نیا مرمت کیا ہوا چھاج ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔ اس نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور منھ میں کچھ بڑبڑانے لگا۔ اس کے پیچھے میّا آئی اور آتے ہی بولی،’’بہو! اناج رکھا ہے کیا؟‘‘

ہولی ڈرتے ڈرتے بولی، ’’ہاں ہاں۔۔۔ رکھا ہے۔۔۔ نہیں رکھا، یاد آیا، بھول گئی تھی میّا۔ ‘‘

’’تو بیٹھی کر کیا رہی ہے، نباب جادی؟‘‘

ہولی نے رحم جویانہ نگاہوں سے رسیلے کی طرف دیکھا اور بولی، ’’جی، مجھ سے اناج کی بوری ہلائی جاتی ہے کہیں؟‘‘

میّا لاجواب ہو گئی اور یوں بھی اسے ہولی کی نسبت اس کے پیٹ میں بچے کی زیادہ پروا تھی۔ شاید اسی لیے ہولی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی، ’’تو نے سرمہ کیوں لگایا ہے ری ؟ رانڈ، جانتی بھی ہے آج گہن ہے جو، بچہّ اندھا ہو جائے تو تیرے ایسی بیسوا اسے پالنے چلے گی؟‘‘

ہولی چپ ہو گئی اور نظریں زمین پر گاڑے ہوئے منھ میں کچھ بڑبڑاتی گئی۔ اور سب ہو جائے لیکن رانڈ کی گالی اس کی برداشت سے باہر تھی۔ اسے بڑبڑاتے دیکھ کر میّا اور بھی بکتی جھکتی چابیوں کا گچھّا تلاش کرنے لگی۔ ایک میلے شمعدان کے قریب سرمہ پیسنے کا کھرل رکھا ہوا تھا۔ اس میں سے چابیوں کا گچھّا نکال کر وہ بھنڈارے کی طرف چلی گئی۔ رسیلے نے ایک پُرہوس نگاہ سے ہولی کی طرف دیکھا۔ اس وقت ہولی اکیلی تھی۔ رسیلے نے آہستہ سے آنچل کو چھُوا۔ ہولی نے ڈرتے ڈرتے دامن جھٹک دیا اور اپنے دیور کو آوازیں دینے لگی۔ گویا دوسرے آدمی کی موجودگی چاہتی ہے۔ اس کیفیت میں مرد کو ٹھکرا دینا معمولی بات نہیں ہوتی۔ رسیلا آواز کو چباتے ہوئے بولا، ’’میں پوچھتا ہوں بھلا اتنی جلدی کاہے کی تھی؟‘‘

’’جلدی کیسی؟‘‘

رسیلا پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، ’’یہی۔۔۔ تم بھی تو کتیا ہو، کتیا۔‘‘

ہولی سہم کر بولی، ’’تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘

ہولی نے نادانستگی میں رسیلے کو وحشی، بد چلن، ہوس ران سبھی کچھ کہہ دیا۔ چوٹ سیدھی پڑی۔ رسیلا کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ لاجواب آدمی کا جواب چپت ہوتی ہے اور دوسرے لمحے میں انگلیوں کے نشان ہولی کے گالوں پر دکھائی دینے لگے۔

اس وقت میّا ماش کی ایک ٹوکری اٹھائے ہوئے بھنڈارے کی طرف سے آئی اور بہو سے بدسلوکی کرنے کی وجہ سے بیٹے کو جھڑکنے لگی۔ ہولی کو رسیلے پر تو غصّہ نہ آیا، البتہ میّا کی اس عادت سے جل بھَن گئی، ’’رانڈ، آپ مار ے تو اس سے بھی جیادہ ،اور جو بیٹا کچھ کہے تو ہمدردی جتاتی ہے، بڑی آئی ہے۔‘‘

ہولی سوچتی تھی کل رسیلا نے مجھے اس لیے مارا تھا کہ میں نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا، اور آج اس لیے مارا ہے کہ میں نے بات کا جواب دیا ہے۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے کیوں ناراض ہے۔ کیوں گالیاں دیتا ہے۔ میرے کھانے پکانے، اٹھنے بیٹھنے میں اسے کیوں سلیقہ نہیں دکھائی دیتا۔ اور میری یہ حالت ہے کہ ناک میں دم آچکا ہے اور مرد عورت کو مصیبت میں مبتلا کر کے آپ الگ ہو جاتے ہیں، یہ مرد!

میّا نے کچھ باس متی، دالیں اور نمک وغیرہ رسوئی میں بکھیر دیا اور پھر ایک بھیگی ہوئی ترازو میں اسے تولنے لگی۔ ترازو گیلا تھا، یہ میّا بھی دیکھ رہی تھی اور جب باس متی چاول پیندے میں چمٹ گئے تو بہو مرتی کرتی پھوہڑ ہو گئی اور آپ اتنی سگھڑ کہ نئے دوپٹے سے پیندا صاف کرنے لگی۔ جب بہت میلا ہو گیا تو دوپٹے کو سر پر سے اتار کر ہولی کی طرف پھینک دیا اور بولی،’’لے، دھو ڈال‘‘

اب ہولی نہیں جانتی بچاری کہ وہ روٹیاں پکائے یا دوپٹا دھوئے۔ بولے یا نہ بولے، ہِلے یا نہ ہِلے، وہ کُتیا ہے یا نباب جادی۔ اس نے دوپٹا دھونے ہی میں مصلحت سمجھی۔ اس وقت چاند گرہن کے زمرہ میں داخل ہونے والا ہی ہو گا۔ بچہ دھلے ہوئے کپڑے کی طرح چُرمُرسا پیدا ہو گا اور اگر ماہ دو ماہ بعد بچے کا بُرا سا چہرہ دیکھ کر اسے کوسا جائے تو اس میں ہولی کا کیا قصور ہے؟ لیکن قصور اور بے قصوری کی تو بات ہی علاحدہ ہے کیونکہ یہ کوئی سننے کے لیے تیار نہیں کہ اس میں ہولی کا گناہ کیا ہے، سب گناہ ہولی کا ہے۔

اسی وقت ہولی کو سارنگ دیوگرام یاد آ گیا۔ کس طرح وہ اسوج کے شروع میں دوسری عورتوں کے ساتھ گربا ناچا کرتی تھی اور بھابی کے سر پر رکھے ہوئے گھڑے کے سوراخوں میں سے روشنی پھوٹ پھوٹ کر دالان کے چاروں کونوں کو منور کر دیا کرتی تھی۔ اس وقت سب عورتیں اپنے حنا مالیدہ ہاتھوں سے تالیاں بجایا کرتی تھیں اور گایا کرتی تھیں۔

ماہندی توادی مالوے

اینو رنگ گیو گجرات رے

ماہندی رنگ لاگیو رے

(ماہندی (حنا) تو مالوہ۔۔۔ وسط ہند میں پیدا ہوئی۔ اس میں گجرات رنگا ہوا ہے۔گویا اسے حنا کا رنگ چڑھ گیا ہے۔)

اس وقت وہ ایک اچھلنے کودنے والی الھڑ چھوکری تھی، ایک بحر و قافیہ سے آزاد نظم، جو چاہتی تھی پورا ہو جاتا تھا۔ گھر میں سب سے چھوٹی تھی۔ نباب جادی تو نہ تھی اور اس کی سہیلیاں۔ وہ بھی اپنے اپنے قرض خواہوں کے پاس جا چکی ہوں گی۔

سارنگ دیوگرام میں گرہن کے موقع پر جی کھول کر دان پُن کیا جاتا ہے۔ عورتیں اکٹھی ہو کر ترویدی گھاٹ پر اشنان کے لیے چلی جاتی ہیں۔ پھول، ناریل، بتاشے سمندر میں بہاتی ہیں۔ پانی کی ایک اچھال منھ کھولے ہوئے آتی ہے اور سب پھول پتوں کو قبول کر لیتی ہے۔ اس وقت کے اشنان سے سب مرد عورتوں کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔ ان گناہوں کا جن کا ارتکاب لوگ گزشتہ سال کرتے رہے ہیں، اشنان سے سب پاپ دھُل جاتے ہیں۔ بدن اور روح پاک ہو جاتی ہے۔ سمندر کی لہر لوگوں کے سب گناہوں کو بہا کر دور، بہت دور، ایک نامعلوم، ناقابل عبور، ناقابلِ پیمائش سمندر میں لے جاتی ہے۔ ایک سال بعد پھر لوگوں کے بدن گناہوں سے آلودہ ہو جاتے ہیں، پھر گہنا جاتے ہیں۔ پھر دیا کی ایک لہر آتی ہے اور پھر پاک و صاف۔

جب گرہن شروع ہوتا ہے اور چاند کی نورانی عصمت پر داغ لگ جاتا ہے تو چند لمحات کے لیے چاروں طرف خاموشی اور پھر رام نام کا جاپ شروع ہوتا ہے۔ پھر گھنٹے، ناقوس، شنکھ ایک دم بجنے لگتے ہیں۔ اس شور و غوغا میں اشنان کے بعد سب مرد عورتیں جمگھٹے کی صورت میں گاتے بجاتے ہوئے گاؤں واپس لوٹتے ہیں۔

گرہن کے دوران میں غریب لوگ بازاروں اور گلی کوچوں میں دوڑتے ہیں۔ لنگڑے بیساکھیاں گھماتے ہوئے اپنی اپنی جھولیاں اور کشکول تھامے پلیگ کے چوہوں کی طرح ایک دوسرے پر گرتے پڑتے بھاگتے چلے جاتے ہیں، کیونکہ راہو اور کیتو نے خوبصورت چاند کو اپنی گرفت میں پوری طرح سے جکڑ لیا ہے۔ نرم دل ہندو دان دیتا ہے تاکہ غریب چاند کو چھوڑ دیا جائے اور دان لینے کے لیے بھاگنے والے بھکاری چھوڑ دو، چھوڑ دو، دان کا وقت ہے۔ چھوڑ دو کا شور مچاتے ہوئے میلوں کی مسافت طے کر لیتے ہیں۔

چاند، گرہن کے زمرہ میں آنے والا ہی تھا، ہولی نے بچوں کو بڑے کائستھ کے پاس چھوڑا۔ ایک میلی کچیلی دھوتی باندھی اور عورتوں کے ساتھ ہر پھول بندر کی طرف اشنان کے لیے چلی۔

اب میّا، رسیلا، بڑا لڑکا شِبو اور ہولی سب سمندر کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں پھُول تھے۔ گجرے تھے اور آم کے پتے تھے اور بڑی اماں کے ہاتھ میں رودرکش کی مالا کے علاوہ مشک کافور تھا، جسے وہ جلا کر پانی کی لہروں پر بہا دینا چاہتی تھی، تاکہ مرنے کے بعد سفر میں اس کا راستہ روشن ہو جائے اور ہولی ڈرتی تھی۔ کیا اس کے گناہ سمندر کے پانی سے دھوئے دھل جائیں گے؟

سمندر کے کنارے گھاٹ سے پون میل کے قریب ایک لانچ کھڑا تھا۔ وہ جگہ ہر پھول بندر کا ایک حصہ تھی۔ بندر کے چھوٹے سے ناہموار ساحل اور ایک مختصر سے ڈاک پر کچھ ٹینڈل غروبِ آفتاب میں روشنی اور اندھیرے کی کشمکش کے خلاف ننھے ننھے بے بضاعت سے خاکے بنا رہے تھے اور لانچ کے کسی کیبن سے ایک ہلکی سی ٹمٹماتی ہوئی روشنی سیماب دار پانی کی لہروں پر ناچ رہی تھی۔ اس کے بعد ایک چرخی سی گھومتی ہوئی دکھائی دی۔ چند ایک دھندلے سے سائے ایک اژدہا نما رسّے کو کھینچنے لگے۔ آٹھ بجے سٹیمر لانچ کی آخری سیٹی تھی۔ پھر وہ سارنگ دیوگرام کی طرف روانہ ہو گا۔ اگر ہولی اس پر سوار ہو جائے تو پھر ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ چاندنی میں نہاتے ہوئے گویا صدیوں سے آشنا کلس دکھائی دینے لگیں۔ اور پھر وہی اماں۔ کنوار پن اور گربا ناچ!

ہولی نے ایک نظر سے شبو کی طرف دیکھا۔ شبو حیران تھا کہ اس کی ماں نے اتنی بھیڑ میں جھک کر اس کا منھ کیوں چوما اور ایک گرم گرم قطرہ کہاں سے اس کے گالوں پر آ پڑا۔ اس نے آگے بڑھ کر رسیلے کی انگلی پکڑ لی۔ اب گھاٹ آ چکا تھا جہاں سے مرد اور عورتیں علاحدہ ہوتی تھیں۔ ہمیشہ کے لیے نہیں، فقط چند گھنٹوں کے لیے۔ اسی پانی کی گواہی میں وہ اپنے مردوں سے باندھ دی گئی تھیں۔ پانی میں بھی کیا پراسرار بعید الفہم طاقت ہے۔ اور دور سے لانچ کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی ہولی تک پہنچ رہی تھی۔

ہولی نے بھاگنا چاہا مگر وہ بھاگ بھی تو نہ سکتی تھی۔ اس نے اپنی ہلکی سی دھوتی کو کس کر باندھا۔ دھوتی نیچے کی طرف ڈھلک جاتی تھی۔ آدھ گھنٹے میں وہ لانچ کے سامنے کھڑی تھی۔ لانچ کے سامنے نہیں۔ سارنگ دیوگرام کے سامنے۔ وہ کلس، مندر کے گھنٹے ، لانچ کی سیٹی اور ہولی کو یاد آیا کہ اس کے پاس تو ٹکٹ کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔

وہ کچھ عرصہ تک لانچ کے ایک کونے میں بدحواس ہو کر بیٹھی رہی۔ پونے آٹھ بجے کے قریب ایک ٹینڈل آیا اور ہولی سے ٹکٹ مانگنے لگا۔ ٹکٹ نہ پانے پر وہ خاموشی سے وہاں سے ٹل گیا۔ کچھ دیر بعد ملازموں کی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔ پھر اندھیرے میں خفیف سے ہنسنے اور باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کوئی کوئی لفظ ہولی کے کان میں بھی پڑ جاتا۔ مرغی۔۔۔ دولے۔۔۔ چابیاں میرے پاس ہیں۔۔۔ پانی زیادہ ہو گا۔

اس کے بعد چند وحشیانہ قہقہے بلند ہوئے اور کچھ دیر بعد تین چار آدمی ہولی کو لانچ کے ایک تاریک کونے کی طرف دھکیلنے لگے۔ اسی وقت آبکاری کا ایک سپاہی لانچ میں وارد ہوا، عین جب کہ دنیا ہولی کی آنکھوں میں تاریک ہو رہی تھی، ہولی کو امید کی ایک شعاع دکھائی دی۔ وہ سپاہی سارنگ دیوگرام کا ہی ایک چھوکرا تھا اور میکے کے رشتہ سے بھائی تھا۔ چھ سال ہوئے وہ بڑی امنگوں کے ساتھ گاوں سے باہر نکلا تھا اور سابرمتی پھاند کر کسی نامعلوم دیس کو چلا گیا تھا۔ کبھی کبھی مصیبت کے وقت انسان کے حواس بجا ہو جاتے ہیں۔ ہولی نے سپاہی کو آواز سے ہی پہچان لیا اور کچھ دلیری سے بولی،’’کتھو رام‘‘۔ کتھو رام نے بھی سیتل کی چھوکری کی آواز پہچان لی۔ بچپن میں وہ اس کے ساتھ کھیلا تھا۔ کتھو رام بولا،’’ہولے‘‘۔

ہولی یقین سے معمور مگر بھرّائی ہوئی آواز میں بولی ’’کتھو بھیّا مجھے سارنگ دیوگرام پہنچا دو ۔‘‘

کتھو رام قریب آیا۔ ایک ٹینڈل کو گھورتے ہوئے بولا، ’’سارنگ دیو جاؤ گی ہولے؟‘‘ اور پھر اپنے سامنے کھڑے ہوئے آدمی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا، ’’تم نے اسے یہاں کیوں رکھا ہے بھائی؟‘‘ ٹینڈل جو سب سے قریب تھا بولا، ’’بچاری کوئی دکھیا ہے۔ اس کے پاس تو ٹکٹ کے پیسے بھی نہیں تھے۔ ہم سوچ رہے تھے ہم اس کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟‘‘ کتھو رام نے ہولی کو ساتھ لیا اور لانچ سے نیچے اتر آیا۔ ڈاک پر قدم رکھتے ہوئے بولا،’’ہولے کیا تم اساڑھی سے بھاگ آئی ہو؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’یہ سریپھ جادیوں کا کام ہے؟ اور جو میں کائستھوں کو خبر کر دوں تو؟‘‘

ہولی ڈر سے کانپنے لگی۔ وہ نہ تو نباب جادی تھی اور نہ سریپھ جادی۔ اس جگہ اور ایسی حالت میں وہ کتھو رام کو کچھ کہہ بھی تو نہ سکتی تھی۔ وہ اپنی کمزوری کو محسوس کرتی ہوئی خاموشی سے سمندر کی لہروں کے تلاطم کی آوازیں سننے لگی۔ پھر اس کے سامنے لانچ کے رسے ڈھیلے کیے گئے۔ ایک ہلکی سی وِسل ہوئی اور ہولے ہولے سارنگ دیوگرام ہولی کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اس نے ایک دفعہ پیچھے کی جانب دیکھا۔ لانچ کی ہلکی سی روشنی میں اسے جھاگ کی ایک لمبی سی لکیر لانچ کا پیچھا کرتی ہوئی دکھائی دی۔

کتھورام بولا،’’ ڈرو نہیں ہولے۔۔۔ میں تمھاری ہر ممکن مدد کروں گا۔ یہاں سے کچھ دور ناؤ پڑتی ہے۔ پَو پھٹے لے چلوں گا۔ یوں گھبراؤ نہیں۔ رات کی رات سرائے میں آرام کر لو۔‘‘

کتھو رام، ہولی کو سرائے میں لے گیا۔ سرائے کا مالک بڑی حیرت سے کتھورام اور اس کے ساتھی کو دیکھتا رہا۔ آخر جب وہ نہ رہ سکا، تو اس نے کتھورام سے نہایت آہستہ آواز میں پوچھا،’’یہ کون ہیں؟‘‘ کتھورام نے آہستہ سے جواب دیا، ’’میری پتنی ہے۔‘‘

ہولی کی آنکھیں پتھرانے لگیں۔ ایک دفعہ اس نے اپنے پیٹ کو سہارا دیا اور دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ کتھورام نے سرائے میں ایک کمرہ کرائے پر لیا۔ ہولی نے ڈرتے ڈرتے اس کمرے میں قدم رکھا۔ کچھ دیر بعد کتھورام اندر آیا تو اس کے منھ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔

سمندر کی ایک بڑی بھاری اچھال آئی۔ سب پھُول، بتاشے، آم کی ٹہنیاں، گجرے اور جلتا ہوا مشک کافور بہا کر لے گئی۔ اس کے ساتھ ہی انسان کے مہیب ترین گناہ بھی لیتی گئی۔ دور، بہت دور، ایک نامعلوم، ناقابلِ عبور، ناقابلِ پیمائش سمندر کی طرف۔ جہاں تاریکی ہی تاریکی تھی۔ پھر شنکھ بجنے لگے۔ اس وقت سرائے میں سے کوئی عورت نکل کر بھاگی۔ سرپٹ، بگٹٹ۔ وہ گرتی تھی، بھاگتی تھی، پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتی، ہانپتی اور دوڑنے لگتی۔ اس وقت آسمان پر چاند پورا گہنا جا چکا تھا۔ راہو اور کیتو دونوں نے جی بھر کر قرضہ وصول کیا تھا۔ دو دھندلے سے سائے اس عورت کی مدد کے لیے سراسیمہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور دور، اساڑھی سے ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں۔

دان کا وقت ہے۔

چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔ چھوڑ دو۔

ہر پھول بندر سے آواز آئی۔

پکڑ لو۔ پکڑ لو۔ پکڑ لو۔

چھوڑ دو۔ دان کا وقت ہے۔ پکڑ لو۔۔۔ چھوڑ دو۔

راجندر سنگھ بیدی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از جاوید اختر