- Advertisement -

مجھے کچھ عرض کرنا ہے

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک اردو نظم

"کرونا”

مجھے کچھ عرض کرنا ہے
ادا یہ فرض کرنا ہے
کہ تم بھی جان لو یہ سب
اگر تم مان لو یہ سب
کرونا ہے حقیقت میں
بڑی موذی بلا ہے یہ
کہ بندے مار دیتا ہے
اگر یہ ماردے بندہ
تو گھربرباد کرتا ہے
کسی معصوم کے آنسو
کسی بیوہ کی چیخوں کو
نہیں سنتا مرے بھاٸی
کسی مزدور کی اُجرت
نہیں ملتی اگر اس کو
کسی مسکین کا چولہا
اگر ٹھنڈا بھی پڑتا ہے
تو تم یہ جان لینا کہ
کبھی پروا نہیں کرتا
مصیبت جب بھی آتی ہے
بڑے ہی ظلم ڈھاتی ہے
کرونا کو سمجھ لو تم
کہ آفت ہے سماواتی
یہ دنیا ہے بڑی ظالم
سمجھ اب بھی نہیں آتی
نظر بند ہوچکے ہو تم
کہیں تم آ نہیں سکتے
کہیں تم جا نہیں سکتے
گلے تم مل نہیں سکتے
ذرا بھی ہنس نہیں سکتے
بڑی مشکل میں پھنسے ہو
جوگھرمیں قید ہو اب تم
اسے تم کرفیو کہہ لو
گھروں میں لاک ہو جو تم
وہ پچھلے سال کا قصہ
تمہیں میں اب بتاٶں گا
جسے کشمیر کہتے ہیں
وہاں تک لے کے جاٶں گا
یہ عملوں کی مکافاتیں
تمھیں اب یاد کرنی ہیں
ستم جو ڈھاٸے ہیں ان پر
سزا ان کی بھگتنی ہے
وہاں بچے بھی روٸے تھے
تھیں مستورات کی چیخیں
جواں بیٹوں کے نوحے تھے
دبادی تھی صدا ان کی
نظر بند کر دیا ان کو
وہ دنیا بھر میں چیخے تھے
بڑے اجلاس بیٹھے تھے
بڑی تقریر گونجی تھی
مگر ظالم کے کانوں پر
نہ کوٸی جوں ہی رینگی تھی
علاوہ اس کے بھی کچھ ہے
کہ اک طبقہ ہے دنیا میں
جنہیں روہنگیا مسلم
زمانے بھر میں کہتے ہیں
وطن ان کا نہیں کوٸی
اسی دھرتی کے باسی ہیں
وہ فاقے روز سہتے ہیں
کھلے وہ آسماں نیچے
سدا بے گھر ہی رہتے ہیں
سمجھ تو آ گٸی ہوگی
کرونا کس کو کہتے ہیں
کہ جس کا نام سن کے ہم
نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
اور اپنے مکروہ چہروں کو
نقابوں میں چھپاتے ہیں

ڈاکٹر الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو نظم از سلمیٰ سیّد