Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
پانی کی گڑیا
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
مَیں کِس کا بخت تھا، مِری تقدِیر کون تھا
میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
مری رہنما تری آنکھ ہے
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے
صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟
میرا جسم میری مرضی
بابا جمہورا
پیکاسو کی بیوہ
اے مرے بےوفا الوداع الوداع
اپنے سوا نہیں ہے کسی ماسوا کا رنگ
یوم نسواں، تبدیلی کا تخم
23 مارچ
جینیٹک کوڈ
نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں
ہیں درمیاں میں فاصلے بھی رابطے کے بعد
سو مت جانا
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
دنیا کا سب سے انمول رتن
سہمے ہوئے تھے لوگ جو خطبوں کے وار سے
خیال و خواب کے منظر میں
تین جذبے
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
اردو شاعری کا مردِ قلندر
خوش و خرم زندگی گزارنے کا راز
بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے
کرونا وائرس اور پاکستان
خوراک غم کو کر لیا جینے کے واسطے
خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے
بُجھ گئے سب دیئے روشنی رہ گئی
ایسی پاکیزہ وپُرنور ضیا اُس کی ہے
اک بات ضروری کرنی ہے
چپ فقیر گواہ رہنا
سوچ آئی تیرے لہجے کی کڑواہٹ پر
گوری کرت سنگھار
رات پھر تیری آغوش میں روشنی کا سفر
اب تیرے پیار کی تشہیر مرے بس میں نہیں
کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک پھیل سکتا ہے؟
سونورل
ستایش گر ہے زاہد، اس قدر جس باغِ رضواں کا
دل کی اجڑی ہوئی بستی کو بسایا کرتا
مجھ پہ بہتان لگاؤ گے، چلے جاؤگے
شعبان کی پندرہویں
ڈیڈی
بچے بذریعہ جراحت
جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر
ہنسنے رونے والے اچھے لگتے ہیں
آج سورج غروب ہونے تک
تیری تصویر اگر بناتے ہم
کیا آنکھیں کیا سپنا سائیں
موسموں کو ہرا کرو صاحب
صبح کا گیت گا رہی ہوں میں
تیرے جیسا نہ کوئی اور ملا تیرے بعد
سیڑھیوں والا پُل
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
نام اُ س نے لیے دُعا میں کہیں
کوئی اپنا تلاش کرتا ہوں
خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور
اِک موجہءصہبائے جُنوں تیز بہت ہے
پیار میں ڈر کہاں سے لےآئے
اس ضرورت کو سمجھتا هی نہیں
گُلوں کی چھاٶں جیسا هے
<<
1
...
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
...
140
>>